پاکستانی حکومت نے کہا ہے کہ ملک میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر زمینی کارروائی اور محدود فضائی حملے کیے ہیں۔
پیر کی علی الصبح وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان کے صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں کی گئی کارروائیوں کے دوران فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 25 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق پاک افغان سرحد کے قریب ضلع باجوڑ میں بھی انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک الگ زمینی کارروائی کی گئی، جس میں اہم کمانڈر سمیت چار دہشت گرد مارے گئے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، تاہم شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
یہ کارروائیاں کراچی میں پاکستان رینجرز کے ایک کمپاؤنڈ پر ہونے والے حملے کے ایک روز بعد سامنے آئی ہیں۔
فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے اس حملے کا الزام جماعت الاحرار پر عائد کرتے ہوئے اسے بھارت کی حمایت یافتہ تنظیم قرار دیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق حملے کے دوران زخمی حالت میں گرفتار کیے گئے ایک حملہ آور نے اعتراف کیا کہ اسے افغانستان میں تربیت دی گئی تھی۔
حکام کے مطابق کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں رینجرز کے کمپاؤنڈ پر حملہ آور پیدل پہنچے تھے۔ ان میں سے ایک نے مرکزی دروازے پر خودکش دھماکہ کیا جبکہ دیگر تین نے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے فائرنگ کی۔ سکیورٹی فورسز نے تین حملہ آوروں کو ہلاک جبکہ ایک کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق حملے میں رینجرز کے تین اہلکار جان سے گئے۔ ان کی نمازِ جنازہ کراچی میں ادا کی گئی، جس میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی، سندھ کے گورنر، وزیرِ اعلیٰ سندھ اور اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔
بعد ازاں سرکاری ٹیلی ویژن چینلز پر گرفتار مبینہ حملہ آور کا ایک ویڈیو بیان نشر کیا گیا، جس میں اس نے اپنا تعلق افغانستان کے شہر جلال آباد سے بتایا۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ ایک ہفتہ قبل پاکستان آیا تھا، اس کا تعلق جماعت الاحرار سے ہے اور اسے افغانستان میں تربیت ملی تھی۔
دوسری جانب وفاقی وزارتِ داخلہ نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ وزارت کے نوٹیفکیشن کے مطابق 10 جولائی 2026 سے بغیر مؤثر ویزا پاکستان میں مقیم کسی بھی افغان شہری کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے گا، جبکہ صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کو اس فیصلے پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔