بھارت کے شہر ایودھیا میں واقع رام مندر عطیات کے مبینہ غبن کے اسکینڈل کی زد میں آ گیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق مندر کے انتظامی امور دیکھنے والے ٹرسٹ پر الزام ہے کہ عقیدت مندوں کی جانب سے دیے گئے عطیات اور قیمتی تحائف میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔
رام مندر کا انتظام شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کے پاس ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ ٹرسٹ باضابطہ طور پر حکومت کے ماتحت نہیں، تاہم اس کے بعض ارکان کا تعلق بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے نظریاتی حلقوں سے بتایا جاتا ہے۔
الزامات اس وقت سامنے آئے جب ٹرسٹ کے اکاؤنٹس سے وابستہ سابق سپروائزر مہپال سنگھ نے مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی۔ عوامی ردعمل کے بعد اتر پردیش حکومت نے تین رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔
رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی ٹیم اپنی رپورٹ جمع کرا چکی ہے، تاہم اس کی تفصیلات عام نہیں کی گئیں۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے کم از کم 8 افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں مندر کے نقد عطیات اور قیمتی نذرانوں کی گنتی سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں۔
مزید عقیدت مند بھی سامنے آئے ہیں جنہوں نے چاندی کی اینٹوں، سونے کے زیورات اور دیگر قیمتی اشیا کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں جو انہوں نے مندر کے لیے دی تھیں۔
جمعے کو ٹرسٹ کے دیرینہ جنرل سیکریٹری چمپت رائے بھی دیگر اہم عہدیداروں کے ساتھ اپنے عہدے سے الگ ہو گئے۔ چمپت رائے رام مندر تحریک کے اہم چہروں میں شمار کیے جاتے رہے ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ اصل ذمہ داروں کو بچا رہی ہے اور نچلے درجے کے عملے کو قربانی کا بکرا بنا رہی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے تحقیقات کو شفاف بنانے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ بعض ہندو مذہبی رہنماؤں نے بھی معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
رام مندر اسی مقام پر تعمیر کیا گیا جہاں 1992 میں بابری مسجد کو ایک ہندو ہجوم نے منہدم کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد بھارت بھر میں فسادات ہوئے جن میں تقریباً 2 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔
بھارتی سپریم کورٹ نے 2019 میں متنازع زمین ہندو فریق کو دے دی تھی، تاہم عدالت نے مسجد کے انہدام کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ بعد ازاں جنوری 2024 میں وزیراعظم نریندر مودی نے رام مندر کی افتتاحی تقریب کی صدارت کی تھی۔