چینی مافیا اور حکومتی ادارے

گزشتہ ایک ماہ سے پنجاب بھر کے اکثر شہروں میں چینی کا بحران آیا ھوا ھے ۔ کہیں اگر چینی مل رھی ھے تو وہ مہنگی اور من مرضی کے نرخوں پر جبکہ کہیں یہ دستیاب ھی نہیں ھے ۔ حکومتی نرخ 173 روپے کلو لیکن یہ 200 سے 230 روپے کلو بلیک میں دستیاب ھے ، جو کہ مہنگائی کی چکی میں پسی غریب عوام پر سراسر ظلم کی انتہا ھے ۔ ضلعی انتظامیہ اور پرائیس کنٹرول کمیٹیاں عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ھو چکے ھیں ۔ شاید شوگر مل مافیا میں سیاستدان ، بیوروکیٹ اور طاقتور تاجر شامل ھیں ۔

یہ امر قابل ذکر ھے کہ غربت کی چکی میں پسی عوام کبھی آٹے ، گھی ، چاول مافیا کے چنگل میں پھنس جاتے ھیں اور کبھی ادویات مافیا کے جو اپنی مرضی سے ادویات کے نرخ بڑھا دیتی ھے یا ادویات انڈر گراونڈ کر کے عوام کی پہنچ سے کوسوں دور کر دیتی ھے ۔ اب یہ چینی بحران بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ھے ۔

اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخ امراء کے در و دیوار ھلا دو

پاکستان میں گزشتہ چند مہینوں میں چین کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس اضافے کی وجہ ملک سے چینی کی برآمد کو قرار دیا گیا تھا جب گزشتہ سال ساڑھے سات لاکھ ٹن کے لگ بھگ چینی برآمد کی گئی۔

حکومت کی جانب سے چینی برآمد کی وجہ اس کے سرپلس اسٹاک کو قرار دیا گیا تھا، تاہم اس برآمد کے بعد مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ملک کے کچھ حصوں میں چینی کی قیمت دو سو روپے فی کلو تک پہنچ گئی جبکہ کہیں اس سے بھی زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔

حکومتی ذرائع کے مطابق، چینی کے مقرر کردہ نرخوں پر عملدرآمد نہ کرنیوالوں کیخلاف پنجاب میں کریک ڈاؤن جاری ہے، ترجمان پرائس کنٹرول نے کہا کہ،گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 915 دکانداروں کیخلاف چینی کی قیمتوں میں ناجائز منافع خوری پر کارروائیاں کی گئیں، پنجاب بھر میں 79 افراد کو گرفتار کرکے 27 کیخلاف مقدمات درج کیے گئے اور 836 افراد کو جرمانے عائد کیے گئے۔

حکومتی ذرائع نے مزید بتایا کہ،اب تک 27 ہزار 413 افراد کیخلاف کارروائیوں میں 1820 افراد گرفتار 303 کیخلاف مقدمات درج کروائے گئے ہیں، لاہور ڈویژن میں 27 گراں فروشوں کیخلاف کارروائیاں کی گئیں، 05 افراد گرفتار ہوئے ،02 کیخلاف مقدمات درج کروائے گئے۔

وزیراعظم پاکستان ، سپریم کورٹ آف پاکستان ، وفاقی وزیر خوراک ، وزیر اعلی پنجاب سے اپیل ھے کہ عوام کے اس مسئلہ کو جلد از جلد حل کروائیں اور چینی مافیا اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کا حکم دیں ۔

ھم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ھے روشن

Author

اپنا تبصرہ لکھیں