سری لنکا میں ڈینگی کے کیسز وبائی سطح پر پہنچ گئے ہیں، جہاں 2026 کے دوران تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق ملک میں اب تک ڈینگی سے 29 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں، جبکہ روزانہ 600 سے 700 نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔
نیشنل ڈینگی کنٹرول یونٹ کے قائم مقام ڈائریکٹر کپیلا کننگارا کے مطابق ڈینگی کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات میں سازگار موسم، مچھروں کی افزائش کے مقامات اور عوامی سطح پر احتیاطی اقدامات میں کمی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق جنوب مغربی مون سون کے دوران 600 ہائی رسک علاقوں میں خصوصی ڈینگی کنٹرول مہم چلائی گئی، جہاں مچھروں کی افزائش کے مقامات ختم کرنے، صفائی مہمات اور عوامی آگاہی پروگرامز پر توجہ دی گئی۔
اس مہم میں اسکولوں، مقامی اداروں، سرکاری محکموں اور کمیونٹی گروپس کو بھی شامل کیا گیا۔ ملک بھر میں ہزاروں مقامات کی نشاندہی کی گئی جہاں کھڑے پانی کے باعث ڈینگی مچھروں کی افزائش ہو رہی تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ تیز کیے گئے حفاظتی اقدامات سے آنے والے ہفتوں میں کیسز میں کمی کی امید ہے، تاہم عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ گھروں، گلیوں اور اردگرد کے علاقوں میں کھڑا پانی فوری ختم کریں۔
حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہیلتھ انسپکٹرز کے ساتھ تعاون کریں اور ڈینگی سے بچاؤ کے لیے صفائی، پانی کی نکاسی اور مچھر مار اقدامات کو معمول بنائیں۔
سری لنکا ماضی میں بھی ڈینگی کے بڑے پھیلاؤ کا سامنا کر چکا ہے۔ 2017 میں ملک میں بدترین ڈینگی وبا کے دوران ایک لاکھ 86 ہزار سے زائد کیسز اور 440 اموات ریکارڈ کی گئی تھیں۔