پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے مانسہرہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ” عمران خان کی کال تک ہمارا دھرنا جاری رہے گا۔ ” اُنہوں نے مزید کہا کہ ” ہمارے سینکڑوں کارکنان کو گولیاں لگیں، حکومتی اہلکاروں نے مُجھ پر قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش بھی کی۔”
دوسری جانب پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ” ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بیلاروس کے صدر کا دورہ منسوخ کروانے کی کوشش کی گئی۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ” پولیس نے 37 افغان باشندے اور پی ٹی آئی کارکنان سے 45 گنز برآمد کیں۔”
حکومتی کریک ڈاؤن کے بعد کیا ہوا؟
کل رات اسلام آباد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دھرنے میں موجود پی ٹی آئی کارکنان پر کریک ڈاؤن کیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اسلام آباد کی سڑکوں کی روشنیاں گل کر کے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی اور سینکڑوں کارکنان کو گرفتار کیا گیا۔ ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا ” 400 سے زائد” افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ "ملزمان جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ میں ملوث تھے۔۔”
وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ” پی ٹی آئی کارکنان نے غلیلوں سے سیکیورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا،جِس سے متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔”
تاہم ابھی تک کسی بھی فریق کی جانب سے زخمیوں اور جاں بحق ہونے والی حتمی تعداد نہیں بتائی گئی۔