امریکا کے لیے ایران کے خلاف جنگ سے نکلنے کا راستہ دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے، فنانشل ٹائمز کی رپورٹ

فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایران کے خلاف جاری جنگ سے نکلنے کا راستہ دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘آپریشن ایپک فیوری’ کے نام سے شروع کیا گیا یہ جنگ اب ایک طویل اور پیچیدہ تنازع میں تبدیل ہو چکی ہے، جس سے نکلنے کا کوئی آسان حل دکھائی نہیں دے رہا۔

ابتدائی طور پر امریکہ نے فوجی دباؤ، بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے ذریعے ایران کو فوری طور پر جھکانے کی کوشش کی، تاہم ایران نے اس کے برعکس حکمت عملی اپناتے ہوئے وقت حاصل کرنے، دباؤ بڑھانے اور عالمی معیشت کو متاثر کرنے کا راستہ اختیار کیا۔

رپورٹ کے مطابق، ایران نے یہ عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکہ دباؤ میں کمی کرے اور ناکہ بندی نرم کرے تو وہ آبنائے ہرمز کھولنے اور مرحلہ وار مذاکرات پر آمادہ ہو سکتا ہے، لیکن امریکی مؤقف ہے کہ ایران فوری طور پر اپنے جوہری پروگرام پر واضح رعایت دے، جس کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے عالمی تیل منڈی کو بری طرح متاثر کیا ہے کیونکہ دنیا کی بڑی توانائی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، تیل کی قیمتیں دوبارہ فی بیرل 110 ڈالر سے تجاوز کرنے لگی ہیں، جس سے امریکہ سمیت دنیا بھر میں مہنگائی اور سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح یہ تنازع صرف فوجی نہیں بلکہ ایک بڑا معاشی بحران بھی بنتا جا رہا ہے۔

فنانشل ٹائمز کے تجزیے کے مطابق، ٹرمپ کے پاس موجود ہر ممکن راستہ خطرات سے بھرپور ہے۔ اگر وہ پسپائی اختیار کرتے ہیں تو اسے سیاسی کمزوری سمجھا جا سکتا ہے، جبکہ جنگ کو مزید بڑھانے کی صورت میں ایک طویل علاقائی جنگ، شدید مہنگائی اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق، اس صورتحال میں کوئی واضح ‘محفوظ راستہ’ موجود نہیں، کیونکہ ہر آپشن بالآخر اسی تنازع کو مزید طول دے سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں