وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پاکستان کا ہفتہ وار تیل کا درآمدی بل بڑھ کر آٹھ سو ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز میں ترسیل متاثر ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگ سے قبل پاکستان کا ہفتہ وار تیل کا بل تقریبا تین سو ملین ڈالر تھا، جو اب بڑھ کر آٹھ سو ملین ڈالر ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صوبوں کے ساتھ ایندھن پر سبسڈی بڑھانے کے لیے مشاورت جاری ہے تاکہ عوام پر بوجھ کم کیا جا سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے پاکستان کی معیشت نسبتا بہتر حالت میں تھی، لیکن موجودہ صورتحال نے گزشتہ دو برس کی معاشی کوششوں کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرضوں کی ادائیگی کے باوجود ملک کے زرمبادلہ ذخائر اپنی سطح پر برقرار ہیں۔انہوں نے سعودی عرب کی قیادت کا شکریہ ادا کیا جس نے تین ارب ڈالر کی معاونت جاری رکھی اور موجودہ پانچ ارب ڈالر کی سہولت کو مزید تین سال کے لیے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں بھی تیز کر دی ہیں۔ انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ان کی کوششوں سے خطے میں امن کی بحالی کے لیے اہم پیش رفت ہوئی۔
انہوں نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے پاکستان کے حالیہ دوروں کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ ایران واپسی سے قبل انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنی قیادت سے مشاورت کے بعد جواب دیں گے۔