چین کے صدر چی جن پنگ نے اپنے حالیہ دورہ روس کے موقع پر ایک روسی اخبار Rossiyskaya Gazeta میں انتہائی اہم مضمون لکھاہے۔ جس میں انہوں نے پہلی بار چین کی نئی عالمی حکمتِ عملی کا اعلان کیا ہے۔ مضمون میں انہوں نے دوسری جنگِ عظیم کی یاد دلاتے ہوئے آج کے دور میں "یکطرفہ رویے، امریکی غلبے، اور عالمی غنڈہ گردی” کو دنیا کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے، اور چین کو اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی قانون کا محافظ بنا کر پیش کیا۔انہوں نے اپنے اس مضمون میں خبردار کیا ہے کہ انسانیت ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے لہذا اسے اتحاد یا تقسیم، مکالمہ یا محاذ آرائی، اجتماعی فائدہ یا لوٹ مار میں سے کسی ایک کو چننا ہوگا۔اب اس طرح کے ضروری فیصلے کرنے کا وقت آ چکا ہے۔ یہ جملہ بظاہر عمومی نظر آتا ہے، مگر اشارہ بالکل واضح ہے —وہ امریکا کی موجودہ پالیسیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں اور انہیں بدلنے کاعزم ظاہر کرہے ہیں۔
اپنی اسی مضمون میں شی نے چین-روس تعلقات کو عالمی توازن برقرار رکھنے والی "تعمیری قوت” قرار دیا اور یہ واضح کیا کہ یہ تعلقات کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں بلکہ ایک کثیر قطبی، منصفانہ اور قانونی عالمی نظام کے فروغ کے لیے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دونوں ممالک کو ان سازشوں سے ہوشیار رہنا ہوگا جو ان کی دوستی کو کمزور کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں — انکا ممکنہ اشارہ شاید امریکی "ریورس کسینجر” پالیسی کی طرف ہے۔
بظاہر یہ مضمون چین کے اس بڑھتے ہوئے عالمی بیانیے کا حصہ ہے جس میں وہ خود کو روایتی طاقتوں کے برعکس ایک ذمہ دار، قانونی، اور منصفانہ قائد کے طور پر پیش کر رہا ہے — جب کہ چین کے نزدیک امریکا بتدریج ایک "نظام شکن” طاقت بنتا جا رہا ہے۔یہ تبدیلی خاموش ہے، مگر گہری — اور شاید مستقبل کا عالمی منظرنامہ بیان کر رہی ہے۔یوں لگ رہا ہے کہ دنیا ایک بار پھر عالمی صف بندی، نظریاتی تقسیم اور مفادات کی کشمکش کے عہد میں داخل ہو رہی ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران جو واقعات رونما ہوئے، انہوں نے نہ صرف سرد جنگ کے ماضی کی بازگشت کو پھر سے زندہ کیا بلکہ ایک نئی اور کہیں زیادہ پیچیدہ، کثیرالمحوری سرد جنگ کی بنیاد رکھ دی ہے۔ اس نئی سرد جنگ میں طاقت کا مرکز صرف فوجی برتری نہیں بلکہ معاشی تسلط، ڈیجیٹل بالادستی، اور نظریاتی اثر و رسوخ بن چکا ہے۔ اس کا آغاز جزوی طور پر اس وقت ہوا جب امریکہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ” امریکہ فرسٹ” کے نعرے کے تحت عالمی تجارتی ڈھانچے کو چیلنج کرنا شروع کیا۔خاص طور پر یکطرفہ تجارتی معاہدوں سے دستبرداری، نیٹو کی حیثیت کو کم کرنا، عالمی اداروں کو ہدف تنقید بنانا اور چین کے ساتھ ایک غیر اعلانیہ معاشی جنگ چھیڑ دینا، ایسے اقدامات تھے جن کے نتیجےمیں دنیا کے بڑے اور ابھرتے ہوئے ممالک کو از سر نو اپنی حکمت عملی پر غور کرنے کا موقع ملا۔
ٹرمپ کے تجارتی ماڈل نے نہ صرف امریکہ کے اتحادیوں کو بے یقینی میں مبتلا کیا بلکہ چین، روس، اور ایران جیسے ممالک کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ جارحانہ اور خودمختار راستے اختیار کرنے کی ترغیب دی۔ حالانکہ مڈل ایسٹ میں شام، یمن اور لیبیا کی جنگیں پہلے ہی خطے کو عدم استحکام کا شکار کرچکی تھیں، لیکن اب ایران، سعودی عرب، ترکی، اور اسرائیل اپنے اپنے ایجنڈوں کے ساتھ زیادہ کھلے طریقے سے ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہیں۔ اس دوران روس اور یوکرین کی جنگ نے بھی یورپ کو ہلا کر رکھ دیا۔ مغرب کی جانب سے روس پر معاشی پابندیاں، اور روس کا توانائی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا، ایک ایسی دنیا کی طرف اشارہ ہے جہاں عسکری محاذ سے زیادہ اہم معرکہ معیشت، رسد، اور توانائی کے ذرائع پر ہونے کا امکان بڑھ چکاہے۔
روس یوکرین جنگ میں چین کا غیر جانبدار مگر حکمت عملی سے بھرپور رویہ یہ واضح کرتا ہے کہ وہ اب صرف ایشیا کی ایک ابھرتی طاقت نہیں بلکہ عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چین نے جہاں روس کو پس پردہ حمایت دی، وہیں اس نے یورپ کے ساتھ تجارت اور افریقہ میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دی۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے نے وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور افریقہ کے متعدد ممالک کو بیجنگ کی جانب جھکنے پر مجبور کر دیا۔ پاکستان، ایران، ترکی، اور مشرقی افریقی ممالک اب اس منصوبے کا حصہ ہیں جس سے عالمی جغرافیہ اور معاشی راستوں کی تشکیل نو ہو رہی ہے۔خاص طور پرجنوبی ایشیا میں اس نئی عالمی صف بندی کے اثرات خاصے گہرے ہیں۔
بھارت، جو برسوں تک غیر جانبدار سفارت کاری کا قائل رہا، اب کھلے عام امریکہ، اسرائیل، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ دفاعی اور اقتصادی شراکت داری کو فروغ دے رہا ہے۔ مگر یہ صف بندی یکطرفہ نہیں۔ چین اور پاکستان اگرچہ بہت پرانے اور گہرے دوست ہیں لیکن اب ان کے درمیان سی پیک کے ذریعے عسکری، تجارتی، اور تزویراتی رشتےاور گہرے ہو چکے ہیں۔ اسی سیاق وسباق میں پاک بھارت جنگ کے دوران چین کو جس طرح اپنے جدید دفاعی نظام کی جنگی نمائش کا موقع ملا اور جس طرح اسلحے کی عالمی مارکیٹ میں اسکی دھال بیٹھی ہے ،یہ اپنی مثال آپ ہے،خاص طورپراسکے ہائپر سونک میزائل، مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈرون، اور خلا میں نصب جدید سیٹلائٹ سسٹم نے دنیا کو ایک واضح پیغام دیاہے کہ اب دنیا کے سامنے صرف امریکہ اور نیٹو کی عسکری قوت ہی نہیں بلکہ ان کے مقابلے پر ایک نیا اور خودمختار بلاک کھڑا ہو چکا ہے۔
شی جن پنگ کے عالمی سیاست سے متعلق بیانات بارہا اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ چین اب مغرب کے سامراجی تسلسل کو چیلنج کرنے کیلئے تیارہے ۔ چین کے نزدیک عالمی ادارے اب غیر مؤثر ہو چکے ہیں کیونکہ وہ طاقتور اقوام کے مفادات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی کمزوریاں، عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط، اور انسانی حقوق کے نام پر مخصوص ممالک کو نشانہ بنانا، وہ تمام عوامل ہیں جن کی بنیاد پر اب چین، روس، اور ایران جیسے ممالک ایک متبادل عالمی نظام کی وکالت کر تے نظر آرہےہیں۔
مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب اور ایران کی قربت، جو ماضی میں ناقابل تصور تھی، اب چین کی ثالثی سے ممکن ہوئی ہے۔ یہ نہ صرف امریکی سفارت کاری کی ناکامی ہے بلکہ چین کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کا اعلان بھی ہے۔ اسرائیل، جو برسوں سے امریکہ کی خارجی پالیسی کا محور رہا، اب مشرق وسطیٰ میں نئی صف بندی کے دباؤ میں ہے۔ متحدہ عرب امارات، قطر، اور مصر جیسے ممالک اب صرف امریکہ پر انحصار نہیں کر رہے بلکہ روس، چین، اور ترکی سے بھی اپنے تعلقات بڑھا رہے ہیں۔افغانستان کی صورت حال، وسطی ایشیائی ریاستوں میں چین اور روس کا بڑھتا ہوا اثر، اور افریقی ممالک میں مغربی اثرات کا زوال — یہ سب اس نئی سرد جنگ کی علامات ہیں۔ افریقہ، جو ماضی میں نوآبادیاتی سیاست کا شکار تھا، اب چین کے ترقیاتی منصوبوں، روس کی سلامتی تعاون، اور ترکی کی مذہبی سفارت کاری کی وجہ سے ایک نئی صف بندی کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔پاکستان کی داخلی سیاست پر بھی اس عالمی صف بندی کے اثرات نمایاں ہیں۔ ایک طرف امریکہ اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاشی معاہدے، دوسری طرف چین کے ساتھ طویل المدتی اسٹریٹجک تعاون — پاکستانی ریاست کو مسلسل توازن کی سیاست پر مجبور کر رہے ہیں۔
یہ منظرنامہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے جب ہم خلا، سائبر اور مصنوعی ذہانت کو نئی جنگی ٹیکنالوجی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ امریکہ اور چین کے درمیان خلائی تسلط کی جنگ اب نظری نہیں بلکہ عملی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ سیٹلائٹ کو تباہ کرنے کی صلاحیت، خودمختار قاتل ڈرون، اور ڈیجیٹل مداخلت — یہ سب ہتھیار اب روایتی فوجوں سے زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں۔ بھارت نے بھی چاند اور مریخ پر مشن بھیج کر یہ واضح کیا ہے کہ وہ اس دوڑ سے باہر نہیں۔ عالمی سیاست میں خوراک، پانی اور ماحولیات بھی اب نئے ہتھیار بن چکے ہیں۔ دریاؤں کے پانی پر قبضہ، زرعی اجناس کی ترسیل، اور ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات — ان تمام امور پر اقوام متحدہ کے فیصلے غیر مؤثر ہو چکے ہیں۔ بھارت کی جانب سے انڈس ریور ٹریٹی کو معطل کرنا ،ہمالیائی گلیشیئرز پر کنٹرول، چین کا بھی پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی حکمت عملی، اور مغربی دنیا کا کاربن اخراج کی قیمت غریب ممالک پر ڈالنا — یہ سب ایسے معاملات ہیں جو مستقبل کی جنگوں کے اسباب بن سکتے ہیں۔
اس سارے پس منظر میں اگر دیکھا جائے تو امریکہ کے اتحادی — خصوصاً بھارت، جنوبی کوریا، تائیوان، سعودی عرب اور اسرائیل — ایک مشکل پوزیشن میں آ چکے ہیں۔ بھارت کو ایک طرف چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی کا سامنا ہے، تو دوسری جانب امریکہ کے ساتھ اس کی قربت اسے خطے میں تنہا کر رہی ہے۔نیپال،سری لنکا،بنگلہ دیش ،مالدیپ اور بھوٹان جیسے ملک بھی بھارت سے دور جاچکے ہیں۔ تائیوان، جو امریکہ کی حمایت پر انحصار کرتا ہے، کسی بھی وقت چین کے حملے کا ہدف بن سکتا ہے، جس سے بحرالکاہل کے تمام ممالک متاثر ہوں گے۔
سعودی عرب، جو امریکہ کے دفاعی سائے میں رہا، اب چین کے ساتھ نئی دوستی کے راستے پر گامزن ہے۔ اسرائیل بھی اندرونی سیاسی خلفشار اور بین الاقوامی تنہائی کے خدشات کا شکار ہے۔ جنوبی کوریا، جو چین کے معاشی دائرے میں ہے مگر دفاعی طور پر امریکہ پر انحصار کرتا ہے، ایک دوہری کشمکش میں پھنسا ہوا ہے۔یہ سب عوامل یہ ثابت کرتے ہیں کہ نئی سرد جنگ ایک ایسی کشمکش ہے جو صرف افواج، میزائلوں یا سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ معیشت، ٹیکنالوجی، سفارت کاری، نظریہ، اور ماحولیات پر محیط ہے۔ اس بار دنیا دو حصوں میں نہیں بلکہ کئی غیر متوقع محوروں میں تقسیم ہو رہی ہے — جہاں کوئی مستقل دوست یا دشمن نہیں بلکہ مفادات کی عارضی قربتیں اور وقتی دشمنیاں ہی واحد اصول ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ عسکری قوت کی اہمیت کو اب ٹیکنالوجی، معیشت اور نظریات کے درمیان مقابلوں نے کم کر دیا ہے — جیسا کہ تجارتی جنگوں، مصنوعی ذہانت میں مسابقت، اوربرکس یانیٹوجیسے اتحادوں کی تشکیل سے ظاہر ہوتا ہے۔
علاقائی تنازعات اور سفارتی تبدیلیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ لبرل جمہوریتوں اور آمرانہ نظاموں کے درمیان گہری نظریاتی کشمکش سے کچھ برامد نہیں ہوسکا۔ طاقت کے بلاک اب مستحکم نہیں بلکہ عارضی مفادات کی بنیاد پر بدلتے جا رہے ہیں۔ روایتی عالمی ادارے غیر جانبدار اور مؤثر رہنے میں مشکلات کا شکار ہیں، اور یہ کثیر جہتی مقابلہ اب طے کر رہا ہے کہ ممالک کس طرح عسکری، سائبر، ماحولیاتی اور ثقافتی میدانوں میں ایک دوسرے سے تعامل، مسابقت اور اثر و رسوخ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
ان سارےحقائق اور پس منظر کے باوجود یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ کیاچین یہ جنگ جیت جائے گا۔کیونکہ اس کے مقابلے میں امریکہ اور یورپ کی اصل طاقت ان کے عسکری یا معاشی وسائل سے کہیں بڑھ کر اُن کی ادارہ جاتی، سائنسی، نظریاتی اور تہذیبی بنیادوں میں ہے جو انہوں نے بہت محنت اور جستجو سے گزشتہ دوصدیوں میں قائم کی ہیں۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، نیٹو، اور یورپی یونین جیسے اداروں کی تشکیل کے ذریعے عالمی نظام پر مظبوط کنٹرول حاصل کیاہے اور وہ آج بھی ان اداروں کے ذریعے دنیا کی پالیسی سازی میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں ۔ امریکہ اور یورپ کی تحقیقی اور سائنسی برتری، جیسے کہ آ کسفورڈ،سٹینفورڈ،ایم آ ئی ٹی اور دیگر اعلیٰ جامعات اور جدید ٹیکنالوجی کی کمپنیوں جیسے گوگل،ایپل،مائیکروسافٹ میں ظاہر ہوتی ہے، جہاں دنیا کی سب سے اہم دریافتیں اور سائینسی پیش رفت جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مغرب کی ثقافت، تعلیم، اور میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلی اثرانگیزی کی سافٹ پاوربھی بہت مؤثر ہتھیار ہے۔ ہالی ووڈ، نیٹ فلکس، مغربی جامعات میں تعلیم کے مواقع، اور لبرل جمہوریت کی کشش اب بھی دنیا کے کئی معاشروں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ مغرب کی ایک اور بڑی طاقت عالمی مالیاتی نظام پر اس کی گرفت ہے، جیسے سویفٹ سسٹم، ڈالر کی بالادستی، اور عالمی تجارتی اصول جن پر اکثر چین کو بھی عمل کرنا پڑتا ہے۔
اس کے علاوہ امریکہ اور یورپ اپنے جمہوری نظام، انسانی حقوق، آزادی اظہار، اور قانون کی حکمرانی جیسے تصورات کے ذریعے دنیا میں اخلاقی قیادت کا دعویٰ رکھتے ہیں، جو چین کے آمرانہ نظام کے مقابلے میں زیادہ مسلمہ اورقابلِ قبول ہیں۔ اگرچہ چین معیشت، ٹیکنالوجی اور سفارت کاری کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، لیکن امریکہ اور یورپ کی اصل طاقت اُن کا وہ عالمی نظام ہے جو اعلیٰ تحقیقاتی صلاحیت، جمہوری اقدار پر مبنی اتحاد، اور عالمی ضمیر پر اثرانگیزی کی صلاحیت میں ظاہر ہوتا ہے،یورپ اور امریکہ اگر اپنے اندرونی اختلافات پر قابو پا کر مؤثر حکمت عملی کے ساتھ سامنے آئے، تو شاید چین کے لئے اس نئی خاموش عالمی جنگ کو جیتنا مشکل ہوجائے۔اگر یہ جنگ چین جاتا ہے تو پھر نئی سرد جنگ دنیا کی طاقت کی ترتیب کو تبدیل کر دے گی، اور اسے ایک کثیر قطبی نظام کی طرف دھکیل دے گی۔ جہاں اثر و رسوخ صرف امریکہ کے گرد مرکوز نہیں رہے گا۔