عمان کے سمندری حدود سے گزرنے والے جہازوں کو بلا رکاوٹ سفر کی اجازت دی جا سکتی ہے، ایران کی امریکہ کو تجویز

ایران نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ گزرگاہ سے متعلق امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایک نیا تجویز پیش کیا ہے، جس کے تحت عمانی سمندری حدود سے گزرنے والے جہازوں کو بلا رکاوٹ سفر کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تہران نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے پر کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایران آبنائے ہرمز کے عمانی حصے میں جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تجویز فوری طور پر بڑے بریک تھرو کی ضمانت نہیں دیتی، تاہم اسے ایران کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں اختیار کیے گئے سخت مؤقف میں ممکنہ نرمی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی میری ٹائم تنظیم انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ تنظیم ہر اس اقدام کا خیر مقدم کرتی ہے جو جہازوں کی محفوظ اور منظم آمد و رفت کو یقینی بنائے۔

آبنائے ہرمز، جو ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک تنگ سمندری راستہ ہے، عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم ترین ذریعہ ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی کی سپلائی گزرتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے اس سے قبل جہازوں سے فیس وصول کرنے اور آبنائے پر خودمختاری کے دعوے جیسے اقدامات پر غور کیا تھا، جنہیں عالمی شپنگ انڈسٹری نے بین الاقوامی قوانین کے خلاف قرار دیا تھا۔

ایران کی تازہ تجویز اس بات سے مشروط ہے کہ امریکہ بھی تہران کے مطالبات پر لچک دکھائے، تاہم واشنگٹن یا ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے فوری طور پر اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب عالمی شپنگ کے شعبے کو خدشہ ہے کہ جاری کشیدگی کے باعث خطے میں تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور سینکڑوں جہاز پہلے ہی آبنائے کے قریب تاخیر کا شکار ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں