ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی کوششیں دنیا کے لیے ایک اہم خدمت ہیں۔
اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نارویجن وزیر خارجہ نے کہا کہ ناروےپاکستان کی جانب سے مذاکرات اور ثالثی میں کردار کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اسلام آباد کو مذاکرات کے مقام کے طور پر پیش کرنے کے ساتھ دونوں فریقین کے درمیان سہولت کاری کی ذمہ داری بھی سنبھالی، جو ایک بڑی اور مشکل ذمہ داری تھی۔
نارویجن وزیر خارجہ نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور پاکستان کی عسکری قیادت کی کوششوں کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جو کچھ کر رہا ہے وہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم ہے، جبکہ ناروے جیسے بڑے بحری تجارتی ملک کے لیے بھی اس کی خصوصی اہمیت ہے۔
انہوں نے بحری راستوں کی آزادی اور بین الاقوامی سمندری تجارت کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز اور دیگر بحری راستوں سے آزادانہ نقل و حرکت عالمی اہمیت کا معاملہ ہے اور اسے صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں سمجھا جا سکتا۔
نارویجن وزیر خارجہ نے بتایا کہ دورے کے دوران جموں و کشمیر، افغانستان اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حالیہ مکہ دفاعی معاہدے سمیت دیگر علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
اس موقع پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور ناروے نے تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، دفاع، موسمیاتی تبدیلی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بحری امور سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی باہمی تجارت اپنی حقیقی صلاحیت سے کم ہے اور اسے مؤثر اقدامات کے ذریعے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی برآمدات ناروے کے لیے گزشتہ دو برس میں پانچ گنا سے زیادہ بڑھی ہیں، جبکہ دونوں ممالک نے قانونی ذرائع سے پاکستانی ہنرمند افرادی قوت کی ناروے منتقلی کے امکانات پر بھی بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی اور عالمی تنازعات کے پرامن حل، اقوام متحدہ کے منشور، ریاستی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کے احترام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔