روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے حوالے سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ممکنہ قتل کے بارے میں قیاس آرائیوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ پوٹن نے سینٹ پیٹرزبرگ بین الاقوامی اقتصادی فورم کے موقع پر بین الاقوامی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایران-اسرائیل تنازعہ کے سیاسی حل پر زور دیا۔
خامنہ ای کے قتل کے امکان کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر پوٹن نے کہا کہ میں اس امکان پر بات بھی نہیں کرنا چاہتا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس ہفتے کے اوائل میں کہا تھا کہ اس تنازعہ سے ایران میں ریجیم چینج ہو سکتا ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ واشنگٹن خامنہ ای کے ٹھکانے سے واقف ہے، لیکن فوری طور پر کارروائی نہیں کرے گا۔
نیتن یاہو کی دھمکیوں کے باوجود پوٹن نے کہا کہ ایرانی معاشرہ اپنی حکومت کے پیچھے متحد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ آج ایران میں وہاں ہونے والے اندرونی سیاسی عمل کی تمام پیچیدگیوں کے باوجود معاشرے میں ملک کی سیاسی قیادت کے گرد یکجہتی پائی جاتی ہے۔
پوٹن نے کہا کہ روس نے جنوری میں ایک اسٹریٹجک شراکت داری پر دستخط کرنے کے باوجود ابھی تک ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کیے ہیں۔تہران کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام شہری استعمال کے لیے ہے اور اس نے مسلسل بم بنانے کی تردید کی ہے، لیکن اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔
پوٹن نے یہ بھی کہا کہ حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں کے باوجود تہران کا جوہری پروگرام زیر زمین جاری ہے، جنہیں کچھ نہیں ہوا۔