بھارتی اداکار پربھاس نے انکشاف کیا ہے کہ فلم باہوبلی کی غیر معمولی کامیابی کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہے اور دو سے تین سال تک ٹھیک سے سو نہیں سکے۔
پربھاس نے “باہوبلی: دی ٹارچ بیئرر” نامی نئی بیک اسٹیج ڈاکیومنٹری میں فلم کی کامیابی کے بعد اپنے کیریئر پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا۔
اداکار کے مطابق باہوبلی نے تیلگو سنیما کا بزنس راتوں رات بدل دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی فلم ساہو نے شمالی بھارت میں پہلے دن تقریباً 26 کروڑ روپے کا بزنس کیا، جو ان کے لیے حیران کن تھا۔
پربھاس کے مطابق یہ سب صرف باہوبلی کی وجہ سے ممکن ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ساہو، رادھے شیام اور بعد کی بڑی فلموں کے بجٹ بھی اسی کامیابی کے بعد ممکن ہوئے، ورنہ اس سے پہلے ان کی فلمیں عموماً 20 سے 40 کروڑ روپے کے بجٹ میں بنتی تھیں۔
تاہم پربھاس نے کہا کہ اس بڑی کامیابی کے بعد اگلی فلم کے انتخاب کا دباؤ بہت زیادہ تھا۔ وہ مسلسل یہ سوچتے رہے کہ باہوبلی کے بعد کس طرح کی فلم کی جائے، بڑی ڈرامائی فلم، ویژولی طور پر شاندار فلم یا پھر کوئی مختلف کہانی۔
اداکار نے بتایا کہ اس دوران مختلف کہانیوں پر غور کیا گیا، جن میں اسکرین پلے بیسڈ فلم اور محبت کی کہانی بھی شامل تھی۔ بعد میں پرشانت نیل اور ناگ اشون کے ساتھ بات چیت ہوئی، جو آگے چل کر سالار اور کالکی 2898 اے ڈی جیسے پراجیکٹس کی شکل میں سامنے آئی۔
پربھاس نے کہا کہ باہوبلی کے بعد ہر شعبے میں ذمہ داری کئی گنا بڑھ گئی تھی، اسی لیے وہ برسوں تک ذہنی دباؤ کا شکار رہے۔
ان کے مطابق باہوبلی ہی وہ بنیاد تھی جس نے بعد میں ‘سالار’ اور ‘کالکی 2898 اے ڈی’ جیسی بڑی فلموں کو ممکن بنایا۔
سالار 2023 میں ریلیز ہوئی، جبکہ کالکی 2898 اے ڈی 2024 میں سامنے آئی اور دونوں فلموں نے پربھاس کی پین انڈیا اسٹار کے طور پر حیثیت کو مزید مضبوط کیا۔