2020 کے بعد سے تاشقند اور اسلام آباد کے تعلقات نمایاں طور پر مضبوط ہوئے، رپورٹ

ازبکستان اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات حالیہ برسوں میں نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں اور یہ تعاون اب یوریشیا میں ایک اہم اسٹریٹجک شراکت داری کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ تاریخی طور پر قدیم شاہراہِ ریشم سے جڑے دونوں ممالک اب معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تعلیم اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں جدید روابط قائم کر رہے ہیں، جو خطے میں رابطہ سازی (کنیکٹیویٹی) کے ایک نئے ماڈل کی عکاسی کرتے ہیں۔

ازبک حکومت کے تحت انسٹیٹیوٹ برائے اسٹریٹیجک اینڈ ریجنل اسٹڈیز کی ریسرچر نگورا سلطانوف کی ایک رپورٹ کے مطابق، 2020 کے بعد سے تاشقند اور اسلام آباد کے تعلقات میں تیزی آئی ہے، جس کی بڑی وجہ دونوں ممالک کی قیادت کی سیاسی وابستگی اور باہمی اعتماد ہے۔ 2021 میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے گئے، جس کے بعد اعلیٰ سطح ملاقاتوں، وزرائے خارجہ کے باقاعدہ رابطوں اور بین الاقوامی فورمز پر تعاون نے دوطرفہ تعلقات کو ایک نیا رخ دیا۔

رپورٹ میں فروری 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف کے ازبکستان کے سرکاری دورے اور صدر شوکت مرزائیوف سے ملاقات کو تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے معیشت، سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور ثقافتی تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے ازبکستان میں جاری اصلاحات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ واضح وژن، محنت اور مضبوط عزم کے ذریعے ہی غیرمعمولی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔

اس دورے کے دوران اعلیٰ سطح اسٹریٹجک پارٹنرشپ کونسل کے قیام کا اعلان کیا گیا، جسے دوطرفہ تعاون کو ادارہ جاتی بنیادوں پر مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پارلیمانی سطح پر دوستی گروپس بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں، جو قانون سازی، کاروباری سہولتوں اور شفاف قانونی فریم ورک کے فروغ میں مدد دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، اقتصادی میدان میں پاکستان، جنوبی ایشیا میں ازبکستان کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل ہو چکا ہے۔ 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 440 ملین ڈالر سے تجاوز کر گیا، جو 2016 کے مقابلے میں بارہ گنا زیادہ ہے۔ ان میں ازبکستان کی برآمدات کا حجم 320 ملین ڈالر سے زائد رہا۔ دونوں ممالک نے مستقبل قریب میں باہمی تجارت کو 2 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔

اس مقصد کے لیے ترجیحی تجارتی معاہدہ ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کی 17،17 اقسام کی اشیا کو کسٹمز سہولتیں دی گئی ہیں۔ ازبکستان میں اس وقت پاکستانی سرمایہ کاری سے تقریبا 180 کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے کاروباری اعتماد کا مظہر ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرمایہ کاری کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ 2024 میں پاکستانی سرمایہ کاری سے 33 ملین ڈالر کے منصوبے مکمل ہوئے، جبکہ 2025 کے ابتدائی سات ماہ میں یہ رقم بڑھ کر تقریبا 70 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ ٹیکسٹائل، دواسازی، زراعت، پرفیومری اور دیگر شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر کام جاری ہے، جبکہ ازبک کمپنیاں پاکستان میں گھریلو آلات، ٹریکٹرز اور اسمارٹ میٹرز کی تیاری کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہیں۔

ٹرانسپورٹ اور علاقائی رابطہ سازی دونوں ممالک کے تعاون کا ایک اہم ستون ہے۔ خاص طور پر ٹرانس افغان ریلوے منصوبے کو وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارتی روابط کے لیے ایک کلیدی منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے، جس سے ترسیل کا وقت کم ہو کر چند دن رہ جائے گا اور لاگت میں نمایاں کمی آئے گی۔ 2025 میں اس منصوبے پر فزیبلٹی اسٹڈی کے اہم مراحل مکمل کیے گئے۔

ثقافتی اور عوامی سطح پر روابط بھی تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔ براہِ راست فضائی رابطوں کے باعث 2025 میں 10 ہزار سے زائد پاکستانی سیاح ازبکستان گئے، جو 2023 کے مقابلے میں تقریبا ڈھائی گنا زیادہ ہیں۔ مذہبی اور تاریخی مقامات، خصوصا امام بخاری، امام ترمذی اور بہاؤالدین نقشبند کے مزارات پاکستانی زائرین کے لیے خاص کشش رکھتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر شوکت مرزائیوف کا فروری 2026 میں متوقع دور ہ پاکستان دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اور اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے، جس سے معیشت، توانائی، ٹرانسپورٹ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نئے منصوبوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

مجموعی طور پر، ازبکستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنا رہا ہے بلکہ وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان علاقائی انضمام اور معاشی استحکام کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں