ملا یعقوب، سراج الدین حقانی اور امیر خان متقی کے مولانا فضل الرحمان سے رابطے، مولانا محمد ادریس کے قتل پر اظہارِ تعزیت

افغان طالبان حکومت کے اعلیٰ رہنماؤں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے رابطہ کر کے چارسدہ میں جے یو آئی (ف) کے رہنما شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کے قتل پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

جے یو آئی (ف) کے میڈیا سیل کے مطابق، افغانستان کے وزیرِ دفاع ملا یعقوب، وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی، وزیرِ خارجہ امیر خان متقی اور طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مولانا فضل الرحمان سے الگ الگ رابطے کیے۔

بیان کے مطابق افغان رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمان سے گفتگو میں مولانا ادریس کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور مرحوم کے لیے دعا بھی کی۔

مولانا ادریس، جو جے یو آئی (ف) کے سینئر رہنما تھے، 5 مئی کو چارسدہ کے علاقے اتمان زئی میں مدرسے جاتے ہوئے موٹر سائیکل سوار مسلح افراد کی فائرنگ سے قتل ہو گئے تھے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی جبکہ شدت پسند تنظیم داعش خراسان نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

افغان طالبان قیادت نے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی قیادت اور عوام اس سانحے پر پاکستانی عوام کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے جے یو آئی (ف) اور اس کی طلبہ تنظیم کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔

ادھر مولانا ادریس کے قتل کے خلاف جے یو آئی (ف) اسلام آباد کے زیرِ اہتمام احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔ احتجاج کی قیادت جے یو آئی (ف) اسلام آباد کے امیر مفتی اویس عزیز نے کی جبکہ اس میں پارٹی کے مرکزی ترجمان اسلم غوری، سندھ کے نائب امیر قاری عثمان، پنجاب کے نائب سیکریٹری جنرل مولانا سعید سرور، راولپنڈی کے امیر ڈاکٹر ضیاء الرحمان اور دیگر رہنما و کارکنان نے شرکت کی۔

مظاہرین نے قتل میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے اسلم غوری نے کہا کہ جب تک قاتل گرفتار نہیں ہوتے، موجودہ حکومت کو مولانا ادریس کے قتل کا ذمہ دار سمجھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جے یو آئی (ف) ایک پرامن سیاسی جماعت ہے جو ہمیشہ امن اور استحکام کی حامی رہی ہے۔ اسلم غوری کا کہنا تھا کہ مولانا ادریس کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور ملک میں کسی کی جان، مال اور عزت محفوظ نہیں رہی۔

اپنا تبصرہ لکھیں