صومالیہ میں بھوک اور غذائی قلت سنگین، امداد بند ہونے کا خدشہ

موغادیشو: اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک (WFP) نے خبردار کیا ہے کہ صومالیہ شدید غذائی بحران کا شکار ہے اور اگر فوری مالی امداد فراہم نہ کی گئی تو جولائی سے لاکھوں افراد کیلئے امدادی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔

ڈبلیو ایف پی کے مطابق صومالیہ میں تقریباً 60 لاکھ افراد شدید بھوک کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ 19 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ مسلسل خشک سالی، بارشوں کی کمی، بدامنی اور جاری تنازعات نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔

عالمی ادارہ خوراک کے عہدیدار میتھیو ہولنگ ورتھ نے کہا کہ صومالیہ دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں غذائی بحران انتہائی خطرناک شکل اختیار کر چکا ہے۔

ڈبلیو ایف پی کے مطابق فنڈز کی کمی کے باعث امدادی سرگرمیاں محدود ہو گئی ہیں۔ پہلے ادارہ تقریباً 20 لاکھ افراد تک خوراک اور امداد پہنچا رہا تھا، لیکن اب صرف 5 لاکھ افراد کو سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

ادھر مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث امدادی سامان کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے، جس سے خاص طور پر بچوں کے علاج کیلئے استعمال ہونے والی خوراک کی کمی پیدا ہو رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ نے عالمی برادری سے فوری امداد کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بروقت مدد نہ ملی تو صومالیہ ایک بڑے انسانی بحران کا شکار ہو سکتا ہے ۔

اپنا تبصرہ لکھیں