بنگلادیش کی اقوامِ متحدہ میں مہاجرین کی حفاظت یقینی بنانے اور غیر قانونی نقل مکانی کی روک تھام کے لیے عالمی تعاون کی اپیل

بنگلہ دیش نے اقوامِ متحدہ میں محفوظ ہجرت کو یقینی بنانے اور غیر قانونی نقل مکانی کی روک تھام کے لیے عالمی تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔

بنگلہ دیش کے جلاوطن افراد کی بہبود اور بیرونِ ملک روزگار کے وزیر عارف الحق چودھری نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ ’’دوسرے بین الاقوامی مائیگریشن ریویو فورم‘‘ کے جنرل مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تارکینِ وطن کے حقوق کے تحفظ، منصفانہ بھرتی، بہتر کام کے ماحول اور مناسب اجرت کے لیے مضبوط بین الاقوامی تعاون ضروری ہے۔

بنگلہ دیش کے مستقل مشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر نے کہا کہ حکومت ’’پورے حکومتی‘‘ اور ’’پورے سماجی‘‘ نقطۂ نظر کے تحت احتساب کے نظام کو مضبوط بنا رہی ہے اور تارکینِ وطن کی انصاف تک رسائی کو بڑھایا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش نے اقوامِ متحدہ کے عالمی معاہدہ برائے ہجرت کے تحت محفوظ، منظم اور قانونی نقل مکانی کے فروغ کے لیے ’’مائیگریشن کمپیکٹ ٹاسک فورس‘‘ قائم کی ہے اور 2026 سے 2030 تک کے لیے قومی ایکشن پلان بھی منظور کیا ہے۔

عارف الحق چودھری کے مطابق بنگلہ دیش پہلے جائزہ فورم میں کیے گئے اپنے 10 وعدوں میں سے 7 پر عملدرآمد مکمل کر چکا ہے، جبکہ 6 نئے وعدے بھی جمع کرائے گئے ہیں اور دو علاقائی اقدامات میں شمولیت اختیار کی گئی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بنگلہ دیش نے عالمی معاہدۂ ہجرت پر عملدرآمد سے متعلق اپنی پہلی رضاکارانہ قومی جائزہ رپورٹ بھی پیش کر دی ہے۔

وزیر نے موسمیاتی تبدیلی کو ہجرت کی بڑھتی ہوئی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے موسمیاتی اثرات سے متاثرہ ممالک کے لیے قابلِ بھروسا مالی معاونت اور تکنیکی تعاون کا مطالبہ بھی کیا۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بنگلہ دیش محفوظ ہجرت کے فروغ اور تارکینِ وطن کی باعزت واپسی اور دوبارہ سماجی انضمام کے لیے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں