ایک نئی بین الاقوامی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ موسیقی کے آلات بجانا نہ صرف ایک فن ہے بلکہ دماغ کے لیے ایک مکمل ورزش بھی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی میں طویل عرصے تک موسیقی سے جڑے رہتے ہیں، ان کا دماغ بڑھاپے میں بھی نوجوانوں کی طرح کام کرتا ہے۔
یہ تحقیق کینیڈا اور چین کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر کی جس میں یہ دیکھا گیا کہ جن بزرگ افراد نے برسوں تک موسیقی کے آلات بجائے، وہ شور والے ماحول میں بھی عام لوگوں کی نسبت باتیں بہتر طریقے سے سمجھنے کے قابل تھے۔
ماہرین کے مطابق، موسیقی بجانے سے دماغ میں موجود مختلف حصوں کے درمیان تعلق مضبوط ہوتا ہے۔ خاص طور پر سننے، بولنے اور حرکت سے متعلق حصے ایک ساتھ بہتر کام کرنے لگتے ہیں، جس کی وجہ سے موسیقی سیکھنے والے افراد مختلف آوازوں میں فرق کرنے میں زیادہ ماہر ہوتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ موسیقی سیکھنے والے بزرگ افراد کے دماغ کو آواز کو سمجھنے میں کم توانائی استعمال کرنا پڑتی ہے، جب کہ وہ لوگ جنہوں نے کبھی موسیقی کی مشق نہیں کی، انہیں آواز پر توجہ دینے کے لیے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موسیقی سے دماغ میں “کگنیٹیو ریزرو” (ذہنی ذخیرہ) پیدا ہوتا ہے، جو عمر بڑھنے کے باوجود دماغی کارکردگی کو برقرار رکھتا ہے۔ یعنی موسیقی ایک ایسا ذریعہ ہے جو دماغی کمزوری سے بچاتا ہے۔
یہ تحقیق اس پرانی سوچ کو بھی چیلنج کرتی ہے کہ عمر کے ساتھ ساتھ دماغ کی آواز سننے اور سمجھنے کی صلاحیت لازمی کم ہو جاتی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسیقی کے ذریعے ہم اس کمی کو روک سکتے ہیں۔تحقیق کے مرکزی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسیقی صرف ایک فن نہیں، بلکہ دماغ کے لیے ایک مکمل ورزش ہے۔ یہ نہ صرف جذباتی خوشی دیتی ہے بلکہ دماغی صحت کے لیے بھی بے حد مفید ہے۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ چاہے آپ کسی بھی عمر میں ہوں، اگر آپ موسیقی بجانا یا سیکھنا شروع کریں تو یہ نہ صرف آپ کی دماغی صحت کو بہتر کرے گا، بلکہ بڑھاپے میں دماغ کو تندرست رکھنے میں بھی مدد دے گا۔