امریکا اور سعودی عرب نے سول جوہری تعاون کے ایک نئے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جسے واشنگٹن نے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک “تاریخی” پیش رفت قرار دیا ہے۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق یہ معاہدہ 1954 کے ایٹمی توانائی ایکٹ کے سیکشن 123 کے تحت کیا گیا ہے، جسے عام طور پر 123 معاہدہ کہا جاتا ہے۔ معاہدے پر امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے دستخط کیے۔
امریکی حکام کے مطابق اس معاہدے کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب کو سول جوہری توانائی کے شعبے میں ٹیکنالوجی فراہم کر سکیں گی۔ امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ یہ معاہدہ امریکا اور سعودی عرب کے تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے، امریکا میں روزگار پیدا کرنے اور اتحادیوں کی سکیورٹی بہتر بنانے میں مدد دے گا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ جوہری تحفظ اور جوہری عدم پھیلاؤ کے اعلیٰ معیار کے مطابق ہے۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق یہ شراکت داری کئی دہائیوں پر محیط اور اربوں ڈالر مالیت کی ہو سکتی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ اب امریکی کانگریس کو جائزے کے لیے بھیجا جائے گا۔ رائٹرز کے مطابق کانگریس کے پاس معاہدے پر اعتراض کے لیے 90 سیشن دن ہوں گے، تاہم اگر کانگریس معاہدہ روکنا چاہے تو اسے صدارتی ویٹو کو ختم کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہو سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس معاہدے کا ایک حساس پہلو یورینیم افزودگی کا امکان ہے۔ امریکی محکمہ توانائی کے بیان میں افزودگی سے متعلق تفصیل نہیں دی گئی، مگر رائٹرز اور اے پی کے مطابق یہ معاہدہ سعودی عرب کو امریکی ٹیکنالوجی کے ذریعے جوہری ری ایکٹرز بنانے اور مستقبل میں یورینیم افزودگی کی صلاحیت حاصل کرنے کی راہ دے سکتا ہے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یورینیم افزودگی سول جوہری توانائی کے لیے استعمال ہو سکتی ہے، مگر یہی صلاحیت جوہری ہتھیاروں کے خدشات بھی پیدا کرتی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا کسی بھی ایسے معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا جو جوہری پھیلاؤ کے خطرے میں اضافہ کرے۔
دوسری جانب بعض امریکی قانون سازوں اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت ملی تو مشرق وسطیٰ میں جوہری مقابلے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ ایران ہمیشہ کہتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
الجزیرہ کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ سعودی عرب جوہری ہتھیار نہیں چاہتا، مگر اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کیے تو سعودی عرب بھی ایسا کر سکتا ہے۔
امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ یہ معاہدہ عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کے معیار کو مضبوط کرے گا اور دونوں ملکوں کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید آگے بڑھائے گا۔