کافی دن سے مختلف احباب کی طرف سے فیسبک پر کچھ عطر فروشوں کی پروموشنل اشتہاری مہم دیکھنے کو مل رہی ہے کہ فلاں صاحب کا پرفیوم بڑا دیرپا ہے اور گھنٹوں کیا کئی دن اس کی خوشبو برقرار رہتی ہے۔ اس سلسلے میں برانڈڈ پرفیومز کے نام کے عطر آئل اور اسپرے کا بھی بڑا چرچا کیا جارہا ہے کہ فلاں کا ساویج ( sauvage) بڑا کمال کا ہے تو فلاں کا کریڈ ایوانٹس( Creed Aventis) کا ریپلیکا اصل سے بھی زیادہ بہترین ہے۔ اصل تو چھ سات گھنٹے میں اڑ جاتا ہے جبکہ یہ عطر آئل یا اسپرے تو دو دن تک مہکتا رہتا ہے۔
عرض ہے جناب دیکھئے گا کہ پرفیوم کا دیر تک برقرار رہنا اس کی خوبی یا معیار کا پیمانہ نہیں ہوتا۔ پرفیوم ایک بہت نازک اور حساس چیز ہے اور اس سے زیادہ حساس ان کو استعمال کرنے والوں کا ذوق ہوتا ہے۔ ایک اچھے اصلی پرفیوم کے نوٹس ہوتے ہیں جو ٹاپ نوٹس، مڈل نوٹس اور بیس یا ھارٹ نوٹس کہلاتے ہیں۔
ٹاپ نوٹس وہ ہوتے ہیں کہ جب آپ پرفیوم اسپرے کرتے ہیں تو آپ کو اس کی خوشبو کیسی محسوس ہوتی ہے۔ اس کے کچھ دیر بعد پرفیوم آپ کی جسمانی حرارت پر سیٹ ہوکر جو مہک دیتا ہے وہ مڈل نوٹس کہلاتے ہیں اور سب سے آخر میں قائم رہ جانے والی خوشبو جو آخر تک رہتی ہے وہ ھارٹ یا بیس نوٹس کہلاتے ہیں۔
آپ کوئی بھی برانڈڈ پرفیوم لیجئے آپ کو لازمی اس کے ساتھ اس کے نوٹس کی تفصیل ملے گی۔
پرفیوم کی دوسری اہم کوالٹی اس کی دیرپائی ( longevity) اور Silage ہوتی ہے۔ دیرپائی کا مطلب کہ پرفیوم کتنی دیر تک آپ کو خوشبو دیتا ہے اور دوسری چیز silage کا مطلب یہ کہ آپ اگر پرفیوم لگا کر کہیں جاتے ہیں تو اس جگہ آپ کے جانے اور آنے کے بعد کتنی دیر تک اس کی مہک محسوس کی جاسکتی ہے۔
اب آجائیے یوڈی کلون، یوڈی ٹوائلٹ اور یو ڈی پرفیوم کی طرف۔ پھولوں جڑی بوٹیوں یا دوسری اشیا سے جو خالص پرفیوم کشید کیا جاتا ہے وہ گاڑھے تیل کی شکل میں ہوتا ہے جس کو ہم عطر کہتے ہیں۔ خالص عطر کی خوشبو انتہائی تیز گاڑھی گاڑھی اور جمی جمی سی ہوتی ہے جو اگر آپ جسم پر لگالیں تو کئی دن برقرار رہتی ہے۔ جیسا کہ ہمارے روایتی عطریات چنبیلی خس گلاب حنا چنبیلی وغیرہ ہیں۔ اب اگر پرفیوم کی دیرپائی کو ہی اس کا معیار بنا لیا جائے تو پھر تو سو روپے والا عطر چنبیلی یا عطر گلاب بھی شاندار ہے۔ روئی کے پھایوں کو تر کرکے کانوں میں اڑس لیجئے اور پورا ھفتہ خود مہکتے پھریں اور اپنے کولیگز کے سر میں درد اور الرجی والوں کو چھینکواتے رہئے۔ لیکن کوالٹی تو ہے بھائی۔ لوگ فخر سے بتاتے ہیں کہ پچھلے جمعے کو نہایا تھا تب لگایا تھا۔ ابھی آج دوسرا جمعہ آگیا ۔ نہانے جارہا ہوں مگر کھسبو نہیں گئی۔
بقول مشتاق یوسفی جب انہوں نے نواب غفران سے پوچھا، “ پیر و مرشد! ایک بات سمجھ میں نہیں آئی۔ نشہ نشہ ہوتا ہے۔ دیس دیس کے لیبل سے کیا فرق پڑتا ہے؟ قہقہے کے بعد ارشاد ہوا، برخوردار! گھونسے، چٹکی، چھری، گنڈاسے اور بندوق کی چوٹ ایک جیسی نہیں ہوا کرتی۔ ہر ملک کے پھول، ہر دیس کی ناری کی بوباس جدا ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں ہرتیز پانی کے لیے صرف ایک گالی ہے۔۔۔ شراب!
بس بالکل اسی طرح ہمارے یہاں ہر خوشبو کو پرفیوم کہہ دیا جاتا ہے۔
یوڈی کلون جو ہوتا ہے اس میں الکحل میں 3 سے 5فیصد تک خالص عطر ملایا جاتا ہے۔ یعنی 100ml یوڈی کلون میں تین سے پانچ ml خالص عطر شامل ہوگا۔ یہ زیادہ سے زیادہ دو سے تین گھنٹے قائم رہتا ہے۔ دوسرے نمبر پر یوڈی ٹوائلٹ ہے۔ اس میں 7 سے پندرہ فیصد تک پرفیوم ہوتا ہے ۔ یہ آٹھ سے دس گھنٹے تک قائم رہتا ہے اور یوڈی پرفیوم میں پندرہ سے بیس فیصد پرفیوم شامل ہوتا ہے جس کی خوشبو پندرہ سے 16 گھنٹے قائم رہتی ہے۔
جن کلونز میں عود عنبر مشک کیسٹوریم وغیرہ شامل ہوتے ہیں ان کے ھارٹ نوٹس میں یہی رہ جاتے ہیں اور دیرپا ہوتے ہیں۔
Eau fraiche یو فریش
یہ ایک فرانسیسی لفظ ہے جس کا ترجمہ "تازہ پانی” ہے۔ لہذا اس پرفیوم کی قسم میں عام طور پر زیادہ پانی ہوتا ہے، جو اسے دیگر خوشبوؤں کے مقابلے ہلکی اور زیادہ لطیف خوشبو بناتا ہے۔
یہ پرفیوم آئل یا خوشبو کے عرقیات کا 1% سے 3% تک ہوتا ہے جس کو الکحل کے بجائے ڈسٹلڈ واٹر میں مکس کیا جاتا ہے، اس لیے یہ دیگر اقسام کے پرفیوم کے مقابلے میں سستا ہے۔ اس کی خوشبو صرف ایک گھنٹہ یا اس سے زیادہ دیر تک رہتی ہے۔ حساس یا خشک جلد والے لوگوں کے لیے بہترین آپشن میں سے ہے۔
ایک زمانے میں فرانس کے بنے یہ یوفریش بڑے اسٹورز کے مین کاؤنٹر کے آس پاس دھرے مل جاتے تھے۔ ان کی خوشبو عام طور پر لیمن سٹرس اور میٹھی نارنگی کے پھولوں سے کشید ہوتی تھی اور بہت تازگی بھرا احساس چھوڑتے تھے۔
باڈی سپرے اور باڈی مسٹ – کیا فرق ہے؟
باڈی سپرے میں تیل کی مقدار کم ہوتی ہے جس کا مطلب ہے کہ ان میں دیرپا طاقت نہیں ہوتی، اس میں گیس بھری جاتی ہے۔ تاہم یہ تازگی بھرا احساس چھوڑتا ہے۔ اس میں مردانہ و زنانہ خوشبو ہے۔ کولون کے مقابلے میں یہ طاقت میں ہلکا ہے، یہ عام طور پر کم مہنگا بھی ہوتا ہے۔
جبکہ دوسری طرف، باڈی مسٹ پرفیوم کا ہلکا اور لطیف ورژن ہے جو عام طور پر پھولوں اور پھلوں کے ساتھ خواتین کے لئے ہوتا ہے۔ یہ باڈی اسپرے سے کافی مشابہت رکھتا ہے کیونکہ ان میں کم مقدار میں آئل اور پانی اور الکحل کی مقدار ہوتی ہے۔یہ تازگی بخش، ہلکے اور روزمرہ کے استعمال کے لیے بہترین ہیں ۔
یہاں میں بتاتا چلوں کہ پرفیومز کی اصل خوبی ان کی خوشبو و مہک کی خوبصورتی و لطافت و نزاکت ہوتی ہے جس کی بنیاد پر فرانس اور اٹلی کی پرفیوم انڈسٹری کھڑی ہے۔ وہ ایسے ایسے اعلی کمبینیشنز بناتے ہیں کہ جن کی خوشبو آپ کو دوسرے جہانوں کی سیر اور احساسات محسوس کرواتی ہیں۔ اس میں الکحل میں شامل کمبینیشنز کی پھوار اور ان کی silage اور نوٹس اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
فرانس نے خوشبو کے قدیم تصور کو لیا اور اسے جدت کی راہ پر ڈال دیا ہے – میٹھی خوشبو کی دنیا میں اب ہر خاص و عام پھل’ پھول جڑی بوٹی’ مصالحہ جات اور لکڑی کے عرقیات کو شامل کر دیا گیا ہے- اور ان اجزاءکے ملاپ نے پرفیومز کی اقسام کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کر دیا ہے-حتی کہ سمندر کی ہوا اور چمڑے و تمباکو کی خوشبو کے بہترین کمبینیشن بنائے۔
اس کے برعکس ہندوستان ابھی بھی خس ‘ عود’ صندل اور مسک جیسی بنیادی خوشبوؤں پر کھڑا ہے- اسکی ایک بڑی وجہ مشرق وسطی میں ان میٹھی خوشبوؤں کی پذیرائی اور مانگ ہے ۔ عود، عنبر، مشک لوبان اور گلاب خس وغیرہ۔ انہی اجزاء کو بنیاد بنا کر مخلط بنائے جاتے ہیں- اور انہی کی بنیاد پر مشرق وسطی کی کچھ کمپنیاں مغربی طرز کے پرفیومز بھی بنا رہی ہیں- مگر ان سب میں ایک بڑی کمی ترش’ ووڈی اور مصالحے دار نوٹس کی عدم موجودگی ہے- جو چیز مغربی پرفیومز کو عطریات اور ہندوستانی و عرب پرفیومز پر فوقیت دیتی ہے وہ اجزاء کے خاص ملاپ کے ساتھ ساتھ ان عرقیات کو اس حد تک لطیف بنانا بھی ہے کہ ان کی مہک ہر خاص و عام کی ناک اور دماغ کو بھلی اور قابل قبول محسوس ہو-
ہمارے یہاں صرف پرفیوم کی دیرپائی کو ہی سب کچھ سمجھا جاتا ہے۔ اسی لئے ہمارے اکثر لوگ برانڈڈ پرفیومز کے کاپی عطریات کی تولہ بھر کی شیشی تین چار سو میں خرید کر خوش ہوجاتے ہیں کہ میں نے sauvage لگا رکھا ہے یا cartier لگا رکھا ہے۔ جبکہ سوچئے کہ ایک بیس ہزار والے پرفیوم اور دوسو والے عطر میں بھلا کیا مقابلہ۔ عطر کی گاڑھی گاڑھی بھاری جمی ہوئ خوشبو فورا” پہچان لی جاتی ہے لیکن سارے ایک ہی ذوق کے لوگ ایک دوسرے کی تعریف کرتے نہیں تھکتے کہ وہ تیرا کریڈ ایوانٹس ، واہ تیرا پولو اسپورٹس۔۔۔یہ سب سنتھیٹک کیمیکلز ہوتے ہیں۔
اوریجنل تو اصلی پھولوں ھربز اور مصالحہ جات سے کشید کئے جاتے ہیں جو انتہائی مہنگے اور قیمتی ہیں۔ اب خوشبووں کو بھی کیمیکلز سے بنایا جاتا ہے جن کو ایسنس کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر گلاب کے ایسنس میں ایک قطرہ بھی گلاب کا عطر نہیں ہوتا۔ یہ اصل خوشبو کے کیمیکل الکلائڈز معلوم کرتے ہیں اور پھر ان الکلائڈز کو نقلی طریقے سے لیبارٹری میں تیار کیا جاتا ہے۔ آپ نے ایسنس تو دیکھے ہونگے کہ ہر پھل کے ذائقے کا ہر پھول کی خوشبو کا ایسنس ملتا ہے۔ آپ شکر کے شیرے میں پانچ قطرے آم کا ایسنس ملادیجئے۔ یہ آپ کو آم کا شربت لگے گا۔ بلکہ اب تو کھانوں یعنی قورمہ بریانی نہاری وغیرہ تک کے ایسنس ملتے ہیں جن کا ایک قطرہ ایک لیٹر پانی کو خوشبودار بنادیتا ہے۔
لیکن معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ یوڈی کلون، یوڈی ٹوائلٹ اور یوڈی پرفیومز کی اپنی ہی ایک کلاس مہک اور فیلنگز ہوتی ہیں جن کا مقابلہ یہ عطر نہیں کرسکتے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہر کوئ مہنگے برانڈڈ پرفیومز افورڈ نہیں کرسکتا اور خوشبو استعمال کرنا ہر طبقے کے انسان کا حق اور فرض ہے۔ جو بھی میسر آئے ضرور لگائیے لیکن سستے عطر یا کمبینیشن کو اصلی برانڈڈ جیسا بھی نہ کہئے۔
ہمارے عطر فروشوں نے پاکستانیوں کی یہ کمزوری بھانپ لی ہے کہ ان کو خوشبو جمعے سے اگلے جمعے تک چاہئے ۔ تو بس وہ مختلف سنتھیٹک پرفیومز کا آئل یا عطریات میں کم مقدار میں الکحل شامل کرتے ہیں اور اس کو کلون یا پرفیوم کے نام پر فروخت کرکے واہ واہ سمیٹتے ہیں۔ اور لوگ یہی کہتے ہیں کہ آٹھ ہزار کا کول واٹر تو بارہ گھنٹے بھی نہیں چلا۔ فلاں بھائ سے تین سو کی شیشی منگوائ تھی دو دن تک مہکتا رہا۔ جبکہ اصل پھولوں چھلکوں اور مصالحوں سے حاصل کردہ اصل پرفیوم یا تیل کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اور یہ انتہائ قیمتی ہوتا ہے۔ اندازہ کیجئے کہ چار ٹن گلابوں سے صرف ایک لیٹر عطر کشید ہوتا ہے۔ ان تمام سستے پرفیومز میں کیمیکل طریقے سے تیار شدہ سنتھیٹک خوشبو استعمال ہوتی ہے۔ انڈیا کے شہر قنوج میں بڑے پیمانے پر پھولوں اور مصالحہ جات سے خالص عطریات کشید کئے جاتے ہیں۔
لیکن یہ لوگ یوڈی کلون ، یوڈی پرفیوم، یوڈی ٹوائلٹ کی لطافتیں، ان کے ٹاپ مڈل اور بیس نوٹس، لانگیٹوٹی اور Silage اور پرفیومز کے محسوسات و نزاکتوں کو نہیں جانتے۔ اس کا فرق آپ ایسے محسوس کیجئے کہ آپ دیسی چنبیلی کا عطر لگائیے۔ اکثر حساس لوگوں کو یہ بہت بھاری اور سردرد کرنے والا لگے گا۔ اب آپ گورلین کا (Jasmin Bonheur Eau De Parfum Guerlain) کا اسپرے کرکے دیکھئے۔ جیسمین کی تازگی بھری مہک سے آپ کی روح تک تروتازہ ہوجائے گی۔
ولایتی یوڈی کلون یا پرفیوم بھی ہر تین چار گھنٹے بعد ھلکا سا اسپرے کرکے تازے کئے جاتے ہیں تاکہ ہر بار ٹاپ مڈل اور بیس نوٹس کو انجوائے کیا جائے خوشبو کا لطف اٹھایا جائے۔ یہ جمعے سے اگلے جمعے تک مہکنے کے لئے نہیں ہوتے۔ کبھی برانڈڈ پرفیوم کو ہر دوچار گھنٹے بعد ھلکی سی پھوار سے تازہ تو کرکے دیکھئے۔
غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو۔
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں۔
بات اگر عطر کی ہو تو پھر خالص خس، موگرا، صندل، حنا ، رات کی رانی کی خوشبو کا جواب نہیں۔
آجکل برانڈ پرفیوم کی ٹکر کے سستے پرفیوم بھی دستیاب ہیں جن کا معیار اور خوشبو کسی طور برانڈڈ سے مختلف نہیں۔ اس میں دبئی میں تیار ہونے والے مختلف برانڈز کے پرفیومز دستیاب ہیں جن کی قیمت دو سے چار ہزار تک ہے۔ اسی طرح برانڈڈ پرفیومز کی A1 ریپلیکاز بھی دستیاب ہیں جو دبئی میں بہترین پرفیومز بنانے والی کمپنی بناتی ہے جو پیکنگ اور باٹل میں بالکل اصلی جیسا لیکن اصل سے بہت کم قیمت لیکن خوشبو میں تقریبا” اصل جیسی ہوتی ہیں۔
نوٹ: اس تحریر میں کسی کی تضحیک یا تذلیل ہرگز مقصود نہیں ہے صرف خوشبو کی مختلف اقسام اور پرفیوم کی نزاکتوں اور لطافتوں کے درمیان فرق واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔