پاکستان:ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹ کرنے کیلئے پہلا پالیسی فریم ورک تیار

پاکستان نے ورچوئل اثاثہ جات (وی ایز) اور ان سے متعلق خدمات فراہم کرنے والے اداروں (وی اے ایس پیز) کے لیے اپنی تاریخ کا پہلا جامع پالیسی فریم ورک تیار کر لیا ہے، جو کہ ملک میں ڈیجیٹل فنانس کے شعبے میں ایک نئے دور کے آغاز کی علامت ہے۔ یہ فریم ورک نہ صرف عالمی مالیاتی معیارات کے مطابق ہے، بلکہ قومی سطح پر ذمہ دار ڈیجیٹل اختراع کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔
یہ پالیسی نیشنل ورکنگ گروپ نے ترتیب دی، جو جنوری 2024 میں وزارتِ خزانہ کی ہدایت پر اینٹی منی لانڈرنگ/کومبیٹنگ دی فنانسنگ آف ٹیررازم (AML/CFT) اتھارٹی کی نگرانی میں قائم کیا گیا تھا۔ اس گروپ کی سربراہی ایف آئی اے کے سپرد کی گئی، جبکہ اسٹیٹ بینک، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ، ایف بی آر، نیکٹا، وزارت آئی ٹی، اور دیگر سرکاری و نجی اداروں کے اعلیٰ حکام اس میں شامل ہیں۔
ایف آئی اے کی ڈائریکٹر اور پالیسی کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کرنے والی سمیرا اعظم نے اسے پاکستان کے ڈیجیٹل فنانس ویژن میں ایک بڑی اور ’مثالی تبدیلی‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھاکہ،ہم نے جدید دنیا کی ٹیکنالوجی کو سمجھنے اور اپنانے کے لیے اپنی آنکھیں کھلی رکھی ہیں۔ یہ پالیسی تیز رفتار تکنیکی ترقی اور قومی سلامتی کے تقاضوں کے درمیان ایک تاریخی توازن پیدا کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ، یہ فریم ورک فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کی سفارش نمبر 15 کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جس میں AML/CFT پر عمل درآمد اور عالمی مالیاتی نظام کے ساتھ وابستگی پر زور دیا گیا ہے۔
پالیسی کا بنیادی مقصد ان خطرات کا تدارک ہے جو منی لانڈرنگ، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور مالیاتی نظام میں عدم استحکام کے باعث پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بلاک چین ٹیکنالوجی پر مبنی مالی نظام کی جدید صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کا راستہ بھی ہموار کرے گا۔
نیشنل ورکنگ گروپ نے پالیسی میں ایک تدریجی اور قابل موافقت ریگولیٹری حکمتِ عملی تجویز کی ہے، جو اداروں کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہوئے کنٹرولڈ ماحول میں اختراع کو فروغ دے گی۔ اس انداز سے نہ صرف نئے مالیاتی تصورات کا تجربہ کیا جا سکے گا، بلکہ پاکستان کا مالیاتی نظام بھی تیزی سے بدلتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں