“امن باہمی احترام کے سائے ہی میں قائم ہو سکتا ہے”، ایرانی صدر نے ایران-امریکا مفاہمتی یادداشت کا 14 نکاتی مسودہ شیئر کر دیا

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایران، امریکا اور پاکستان کی جانب سے “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” پر دستخطوں کے بعد اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اس کا مسودہ شیئر کیا۔ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ‘یہ ایک تاریخی دستاویز اور طاقتور ایران کا پیغام ہے کہ امن باہمی احترام کے سائے میں قائم ہوگا’۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ اپنے وقار اور آزادی کے تحفظ کے ساتھ عالمی امن، ترقی اور علاقائی تعاون کے لیے پُرعزم اور ثابت قدم رہا ہے’۔

اس سے قبل کئی بین الاقوامی میڈیا اداروں نے امریکی ذرائع کے حوالے سے اس یادداشت کے نکات شیئر کیے تھے لیکن معاہدے کے کسی فریق کی جانب سے پہلی بار یہ مسودہ شیئر کیا گیا ہے۔ امریکا اور پاکستان کی جانب سے فی الحال سرکاری طور پر یہ مسودہ دسامنے نہیں آیا ہے۔ ایرانی صدر کے شیئر کردہ مسودے پر ان کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ثالث ملک پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے دستخط بھی موجود ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے شیئر کیے گئے مسودے کے 14 نکات درج ذیل ہیں؛

1۔ امریکہ، اسلامی جمہوریہ ایران اور موجودہ جنگ میں ان کے اتحادی اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر کے اعلان کرتے ہیں کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کی جاتی ہیں۔ دونوں فریق عہد کرتے ہیں کہ آئندہ ایک دوسرے کے خلاف کوئی جنگ یا فوجی کارروائی شروع نہیں کریں گے، طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کریں گے، اور لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو یقینی بنائیں گے۔ حتمی معاہدہ بھی لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے مستقل خاتمے اور اس مسودے کی دیگر شقوں کی تصدیق کرے گا۔
2۔ امریکہ اور ایران ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔

3۔ امریکہ اور ایران عہد کرتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کریں گے اور اسے مکمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ مدت دونوں کی رضامندی سے بڑھائی جا سکتی ہے۔

4۔ اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی امریکہ ایران کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی اور دیگر رکاوٹیں ختم کرنا شروع کرے گا، اور 30 دن کے اندر بحری ناکہ بندی مکمل طور پر ختم کر دے گا۔ اس دوران سمندری جہازوں کی آمد و رفت جنگ سے پہلے کی سطح کے مطابق بتدریج بحال کی جائے گی۔ امریکہ یہ بھی عہد کرتا ہے کہ حتمی معاہدے کے 30 دن کے اندر اپنی افواج ایران کے قریب سے ہٹا لے گا۔

5۔ اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایران 60 دن کے لیے خلیج فارس سے بحیرہ عمان اور بحیرہ عمان سے خلیج فارس تک تجارتی جہازوں کو بغیر کسی فیس کے محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کرے گا۔ تجارتی جہازوں کی آمد و رفت فوری طور پر شروع ہو جائے گی، تاہم تکنیکی اور فوجی رکاوٹوں کو ہٹانے اور بارودی سرنگوں کی صفائی کے باعث اسے 30 دن کے اندر مکمل طور پر بحال کیا جائے گا۔ ایران سلطنتِ عمان کے ساتھ بات چیت کرے گا تاکہ آبنائے ہرمز میں آئندہ انتظامات اور بحری خدمات کا طریقہ کار طے کیا جا سکے۔ اس معاملے پر خلیج فارس کے ساحلی ممالک سے بھی مشاورت کی جائے گی، جو بین الاقوامی قانون اور ساحلی ریاستوں کے خودمختار حقوق کے مطابق ہو گی۔

6۔ امریکہ اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایران کی تعمیرِ نو اور معاشی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کا حتمی اور باہمی طور پر منظور شدہ منصوبہ تیار کرے گا۔ اس منصوبے پر عمل درآمد کا طریقہ کار 60 دن کے اندر حتمی معاہدے کا حصہ بنایا جائے گا۔ اس منصوبے کے لیے ضروری مالی لین دین، لائسنس، اجازت نامے اور چھوٹ امریکہ فراہم کرے گا۔

7۔ امریکہ ایران کے خلاف ہر قسم کی پابندیاں ختم کرنے کا عہد کرتا ہے، جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں، آئی اے ای اے بورڈ آف گورنرز کی قراردادیں، اور امریکہ کی یکطرفہ بنیادی اور ثانوی پابندیاں شامل ہیں۔ پابندیاں ختم کرنے کا شیڈول حتمی معاہدے میں طے کیا جائے گا۔ ایران اور امریکہ تسلیم کرتے ہیں کہ پابندیوں کا خاتمہ انتہائی اہم معاملہ ہے، اس لیے وہ مذاکرات میں فوری طور پر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

8۔ ایران دوبارہ تصدیق کرتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل یا تیار نہیں کرے گا۔ امریکہ اور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کے ذخیرہ شدہ افزودہ جوہری مواد کے مستقبل کا فیصلہ باہمی طور پر طے شدہ طریقہ کار کے تحت کیا جائے گا۔ کم از کم طریقہ یہ ہو گا کہ اس مواد کو ایران کے اندر ہی آئی اے ای اے کی نگرانی میں کم درجے پر لایا جائے۔ دونوں فریق ایران کی جوہری ضروریات، افزودگی اور دیگر متعلقہ امور پر بھی بات چیت کریں گے۔ حتمی معاہدہ اس نکتے کی تصدیق کرے گا۔ دونوں ممالک تسلیم کرتے ہیں کہ جوہری معاملات انتہائی اہم ہیں اور انہیں مذاکرات میں فوری طور پر حل کیا جانا چاہیے۔

9۔ حتمی معاہدے تک امریکہ اور ایران موجودہ صورتحال برقرار رکھنے پر متفق ہیں۔ ایران اپنے جوہری پروگرام کی موجودہ حالت برقرار رکھے گا، جبکہ امریکہ کوئی نئی پابندی عائد نہیں کرے گا اور خطے میں اضافی فوج تعینات نہیں کرے گا۔

10۔ امریکہ عہد کرتا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی اور پابندیوں کے خاتمے تک امریکی محکمہ خزانہ ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور ان سے متعلقہ اشیا کی برآمد کے لیے چھوٹ جاری کرے گا۔ اس میں بینکنگ لین دین، انشورنس، ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ خدمات بھی شامل ہوں گی۔

11۔ امریکہ ایران کے منجمد یا محدود فنڈز اور اثاثوں کو مکمل طور پر قابلِ استعمال بنانے کا عہد کرتا ہے۔ اس مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے بعد امریکہ اور ایران مذاکرات کے دوران ان رقوم کے اجرا کا طریقہ کار باہمی طور پر طے کریں گے۔ یہ رقوم چاہے اپنے اصل اکاؤنٹس میں رہیں یا کسی اور جگہ منتقل کی جائیں، انہیں ایران کے مرکزی بینک کی جانب سے مقرر کردہ کسی بھی حتمی وصول کنندہ کو ادائیگی کے لیے مکمل طور پر استعمال کیا جا سکے گا۔ امریکہ اس مقصد کے لیے تمام ضروری لائسنس اور اجازت نامے جاری کرے گا۔

12۔ امریکہ اور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ اس مفاہمتی یادداشت پر کامیاب عمل درآمد اور مستقبل کے حتمی معاہدے کی پابندی کی نگرانی کے لیے ایک عملی نظام قائم کیا جائے گا۔

13۔ اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد، اور اس کی شقوں 1، 4، 5، 10 اور 11 پر عمل درآمد شروع ہونے اور جاری رہنے کی شرط پر، امریکہ اور ایران حتمی معاہدے کے لیے باقی نکات پر مذاکرات شروع کریں گے۔

14۔ حتمی معاہدے کی توثیق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔

19 جون بروزِ جمعہ سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام بورگن سٹاک پر باقاعدہ دستخطی تقریب منعقد کی جائے گی۔ سوئس حکام کے مطابق، پاکستان اور قطر نے اس مقام کی تجویز دی تھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں