سکیورٹی انتظامات ایسے نہیں ہونے چاہیے جو وزیراعظم اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا کریں، بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم طارق رحمان

بنگلہ دیش کے وزیرِ اعظم طارق رحمان نے اسپیشل سکیورٹی فورس، ایس ایس ایف کی 40ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ وہ سربراہِ حکومت کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے عوام سے رابطہ برقرار رکھنے کا بھی خیال رکھے۔

طارق رحمان کا کہنا تھا کہ ایک منتخب رہنما کی سب سے بڑی طاقت عوام کا اعتماد اور محبت ہوتی ہے، اس لیے سکیورٹی انتظامات ایسے نہیں ہونے چاہییں جو وزیرِ اعظم اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا کریں۔

انہوں نے کہا کہ جدید دور میں سکیورٹی چیلنجز زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں، کیونکہ سماجی، معاشی، سیاسی اور جغرافیائی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی میں بھی مسلسل ترقی ہو رہی ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایس ایس ایف ایک خصوصی اور پیشہ ور فورس ہے، اس لیے اسے بہادری، پیشہ ورانہ مہارت، حکمتِ عملی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔

انہوں نے ایس ایس ایف کے موجودہ اور سابق اہلکاروں کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ اس فورس نے اپنے قیام کے بعد کئی اہم ذمہ داریاں کامیابی سے انجام دی ہیں۔

طارق رحمان نے کہا کہ حکومت نے عوامی مشکلات کم کرنے کے لیے ان کے قافلے کا حجم کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے ایس ایس ایف اہلکاروں کو ہدایت کی کہ وہ اہم ریاستی شخصیات کی حفاظت کرتے ہوئے عام شہریوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور انہیں غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

تقریب کے دوران وزیرِ اعظم نے ایس ایس ایف کے نئے فائرنگ رینج کا افتتاح بھی کیا اور تربیتی مشق کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فورس کے اہلکار اس سہولت سے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنائیں گے۔

وزیرِ اعظم کے مطابق ایس ایس ایف کی آپریشنل “ریڈ بک” کو 2002 کے بعد پہلی بار جدید خطوط پر نظرثانی کے بعد اپ ڈیٹ کیا گیا ہے، جس میں فورس کے طریقہ کار، ذمہ داریوں اور قانونی تحفظات کو زیادہ واضح کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ایس ایس ایف کو مزید جدید اور مضبوط بنانے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں