امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے طے پانے والا ابتدائی معاہدہ نئی مشکلات کا شکار ہو گیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ مذاکرات کا اگلا مرحلہ مؤخر کر دیا گیا ہے، جبکہ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں نئے حملے کیے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ جانا تھا، تاہم وائٹ ہاؤس نے جمعرات کی رات کہا کہ ان کا دورہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق امریکہ تکنیکی مذاکرات جلد از جلد شروع کرنے کا خواہاں ہے۔
یہ ابتدائی معاہدہ رواں ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دستخط کر کے منظور کیا تھا۔ تاہم اسرائیل کے کئی ارکانِ پارلیمان اور بعض ری پبلکن رہنماؤں نے اس معاہدے پر سخت تنقید کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ معاہدے کے ذریعے ایران کو معاشی ریلیف دیا گیا ہے، جبکہ تہران کے جوہری پروگرام سمیت مشکل معاملات کو اگلے مراحل کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔
جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس میں جے ڈی وینس نے اسرائیلی ناقدین کو غیر معمولی طور پر براہِ راست جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا میں ڈونلڈ ٹرمپ واحد سربراہِ مملکت ہیں جو اسرائیل کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ ان کے بقول اگر وہ اسرائیلی کابینہ میں ہوتے تو اپنے واحد طاقتور اتحادی پر حملہ نہ کرتے۔
اسرائیل امریکہ اور ایران کے مذاکرات کا فریق نہیں ہے۔ تاہم لبنان میں ایران کے حمایت یافتہ گروہ حزب اللہ کے ساتھ اس کی لڑائی معاہدے کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو اشارہ دے چکے ہیں کہ اسرائیل اس معاہدے کا پابند نہیں، حالانکہ معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی کی بات کی گئی ہے۔
جمعے کو جنوبی لبنان میں مہلک حملوں کی نئی لہر سے واضح ہوا کہ وہاں لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، کیونکہ اس کے بقول حزب اللہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔ دوسری جانب حزب اللہ نے کہا ہے کہ اس نے اسرائیلی ٹینکوں پر راکٹ داغے ہیں۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ناباتیہ شہر کے قریب رات گئے اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں ایک ٹینک پر حملے میں اس کے چار فوجی مارے گئے۔
سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ مذاکرات کی تیاریاں اب بھی جاری ہیں۔ ان مذاکرات میں قطر اور پاکستان کی شمولیت متوقع تھی۔
ادھر آبنائے ہرمز سے تجارتی آمد و رفت میں بہتری آ رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کے بعد اس اہم سمندری راستے سے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت دوبارہ بڑھنے لگی ہے۔
تاہم معاہدے کے دفاع میں جے ڈی وینس کے بیانات پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران مذاکرات کے اگلے مرحلے میں امریکی مطالبات تسلیم نہیں کرتا تو اسے زیادہ فائدہ نہیں ملے گا، مگر ناقدین کے مطابق ان کے دعوے واضح نہیں تھے۔