پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کی اس رپورٹ کو گمراہ کن قرار دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی فوجی طیاروں کو امریکی حملوں سے بچانے کے لیے نور خان ایئربیس پر پناہ دی گئی۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں کے طیارے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والے سفارتی رابطوں کے سلسلے میں پاکستان آئے تھے۔
بیان کے مطابق ان طیاروں کی آمد کا مقصد سفارتکاروں اور سکیورٹی اہلکاروں کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنا تھا۔
دفترِ خارجہ نے کہا کہ بعض قیاس آرائیوں پر مبنی بیانیے خطے میں جاری امن اور استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے لیے پھیلائے جا رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ دورۂ اسلام آباد کے دوران بھی اسی نوعیت کے عارضی انتظامات کیے گئے تھے اور پاکستان نے پورے بحران میں غیر جانبدار سہولت کار کا کردار ادا کیا۔
اس سے قبل سی بی ایس نیوز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطے کا کردار ادا کرتے ہوئے ایرانی فوجی طیاروں کو اپنے ہوائی اڈوں پر ٹھہرنے کی اجازت دی۔