ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی جنگ کے 74ویں روز بھی برقرار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ بندی ’’انتہائی نازک حالت‘‘ میں ہے۔
امریکی صدر نے ایران کی جانب سے پاکستان کے ذریعے امن تجویز پر دیے گئے تازہ جواب کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’’بے وقوفانہ‘‘ قرار دیا۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو اس کا ایسا جواب دیا جائے گا جس سے امریکا ’’حیران‘‘ رہ جائے گا۔
امریکا اور ایران کے درمیان تلخی بڑھنے سے جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششیں مزید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہیں، جبکہ اس تنازع نے عالمی توانائی بحران میں اضافہ کر دیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ تہران نے امریکی امن تجویز کے جواب میں جنگ کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے، اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران صرف اپنے ’’جائز حقوق‘‘ چاہتا ہے۔
الجزیرہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکا کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران پہلے افزودہ یورینیم ختم کرنے پر آمادہ تھا لیکن بعد میں اس نے مؤقف بدل لیا۔ دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اسے اس بات کی ’’مناسب ضمانتیں‘‘ چاہییں کہ دوبارہ جنگ شروع نہیں ہوگی۔
تجزیہ کار دانیا تھافر کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی بات سمجھنے کے بجائے اپنے اپنے مؤقف دہرا رہے ہیں۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز میں دباؤ بڑھانے جیسے اقدامات خطے کی معیشت کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں اور تنازع کو ایک طویل ’’منجمد کشیدگی‘‘ میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
ادھر برطانیہ اور فرانس منگل کو 40 ممالک کے وزرائے دفاع کا اجلاس منعقد کر رہے ہیں، جس میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے منصوبوں پر غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب لبنان میں حکام نے بیروت میں تعینات امریکی سفیر سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو حملے روکنے پر آمادہ کیا جائے، کیونکہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق جنوبی لبنان کے شہر صور میں کئی خاندان بار بار نقل مکانی سے تنگ آ چکے ہیں اور شدید حملوں کے باوجود دوبارہ اپنے گھروں کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مسلسل بے دخلی، خاندانوں کی علیحدگی اور بچوں کی تعلیم میں رکاوٹ پر عوام میں غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔