چین میں ایران کے سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے کہا ہے کہ تہران نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے چینی صدر شی جن پنگ کے چار نکاتی منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی سفیر کے مطابق ایران اس منصوبے کو خلیجی خطے میں دیرپا امن، مشترکہ ترقی اور استحکام کے لیے اہم سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی حالیہ ملاقات میں بھی اس معاملے پر زور دیا گیا تھا۔
چینی صدر شی جن پنگ نے متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان سے بیجنگ میں ملاقات کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے چار نکاتی تجاویز پیش کی تھیں۔
چینی صدر کے منصوبے میں پہلا نکتہ خطے میں پرامن بقائے باہمی کے اصول کو مضبوط بنانا ہے، تاکہ خلیجی ممالک باہمی تعلقات بہتر بنا کر مشترکہ اور پائیدار سکیورٹی نظام قائم کر سکیں۔
دوسرا نکتہ قومی خودمختاری کے احترام پر مبنی ہے، جس کے تحت خلیجی ممالک کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
تیسرے نکتے میں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری پر زور دیا گیا ہے، جبکہ دنیا کو “طاقت کے قانون” کی طرف واپس جانے سے روکنے کی بات کی گئی ہے۔
چوتھا نکتہ ترقی اور سلامتی کے درمیان توازن قائم رکھنے سے متعلق ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ سلامتی ترقی کے لیے ضروری ہے، جبکہ ترقی خود امن و استحکام کو مضبوط بناتی ہے۔
چین نے کہا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے اور خطے میں سیاسی حل، جنگ بندی اور مذاکرات کے فروغ کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کردار ادا کرتا رہے گا۔
چینی حکام کے مطابق ایران اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال جنگ سے امن کی جانب ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اور ایسے وقت میں تمام فریقین کو تحمل، سفارت کاری اور سیاسی مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔