وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کے حکومتی فیصلے پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کسی ایک شعبے کو ترجیح نہیں دے رہی اور نہ ہی کسی دوسرے شعبے پر غیر ضروری بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
حکومت نے جمعے کی شب پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتیں اگلے احکامات تک برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 299 روپے 50 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 311 روپے 47 پیسے فی لیٹر پر برقرار رہے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں وزیرِ پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت اپنی عالمی ذمہ داریوں کے دائرے میں رہتے ہوئے صارفین کو ہر ممکن ریلیف منتقل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
علی پرویز ملک نے عالمی منڈی میں تیل کی حالیہ قیمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 22 سے 26 جون کے دوران پیٹرول کی عالمی قیمت 90 ڈالر 36 سینٹ سے 98 ڈالر 35 سینٹ فی بیرل کے درمیان رہی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 104 ڈالر 79 سینٹ سے 109 ڈالر 09 سینٹ فی بیرل کے درمیان فروخت ہوا۔
وزیرِ پیٹرولیم کے مطابق وفاقی حکومت اب تک ڈیزل کی قیمت میں مجموعی طور پر 200 روپے فی لیٹر اور پیٹرول کی قیمت میں 155 روپے فی لیٹر کمی کر چکی ہے۔
حکومت کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم نہ کرنے پر اپوزیشن رہنماؤں، سیاسی جماعتوں اور صحافیوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔
سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے سوال اٹھایا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح پر آنے کے باوجود پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 300 روپے فی لیٹر کے قریب کیوں برقرار ہے اور عوام کو ریلیف کیوں نہیں دیا جا رہا۔
تحریکِ انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کئی حصوں میں ایندھن کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں، لیکن پاکستان میں عوام کو اس کا فائدہ منتقل نہیں کیا جا رہا۔
جمعیت علمائے اسلام نے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کے فیصلے کو عوام کے ساتھ ناانصافی قرار دیا۔ جے یو آئی کے ترجمان اسلم غوری نے کہا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے باوجود عوام کو ریلیف نہ دینا حکومتی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں میں تبدیلی براہِ راست نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے شہریوں کو متاثر کرتی ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمتوں کا اثر مال برداری، پبلک ٹرانسپورٹ، زرعی شعبے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے۔
گزشتہ ہفتے حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اس بار قیمتیں برقرار رکھنے کے فیصلے پر حکومت کو سیاسی اور عوامی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔