پاکستان نے امریکا اور ایران پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشیدگی ختم کر کے تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان اور قطر کی ثالثی سے ہونے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام فریقوں کو کشیدگی ختم کرنے اور مفاہمتی یادداشت کے مطابق تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان امید کرتا ہے کہ تمام فریق اپنے مسائل کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کے راستے پر قائم رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کشیدگی جاری رہی ہے، اس لیے پاکستان ایک بار پھر تمام فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مطالبہ کرتا ہے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ مقاصد کے لیے مسلسل رابطے، مکالمے اور سفارت کاری کا کوئی متبادل نہیں۔ ترجمان نے کہا کہ تمام تنازعات آخرکار مذاکرات کی میز پر ہی حل ہوتے ہیں۔
انہوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو امن، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کا مستقل لائحۂ عمل قرار دیا۔
دفترِ خارجہ نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سلامتی، تحفظ اور آزادی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ترجمان کے مطابق آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال سے کئی ممالک، خاص طور پر عالمی جنوب کے ممالک، متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی توانائی فراہمی، تجارتی اشیا اور غذائی سلامتی پر اس صورتحال کے اثرات کو فوری طور پر کم کرنے کی ضرورت ہے۔ طاہر اندرابی نے امید ظاہر کی کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں صورتحال جلد معمول پر آ جائے گی۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور فوجی کارروائیوں کے باعث تیل اور گیس کی عالمی فراہمی پر دباؤ بڑھا ہے۔ اسی کشیدگی کے نتیجے میں عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جبکہ پاکستان میں بھی 10 جولائی کو پیٹرول اور تیز رفتار ڈیزل کی قیمتوں میں 13 روپے سے زائد اضافہ کیا گیا۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ اسلام آباد خطے میں کشیدگی کم کرنے، مکالمے اور پُرامن حل کے لیے اہم فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی قطر کے امیر اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک گفتگو کا بھی حوالہ دیا۔ ترجمان کے مطابق وزیراعظم نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ مشکل سے حاصل ہونے والی امن پیش رفت کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔
اسی بریفنگ کے دوران دفترِ خارجہ کے ترجمان نے برطانیہ میں بچوں کے جنسی استحصال کے ایک مقدمے میں سزا یافتہ شبیر احمد کے معاملے پر بھی بات کی۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں اور یہ مکمل طور پر برطانیہ کا اندرونی معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ شخص برطانوی شہری ہے، اس نے اپنی پوری بالغ زندگی برطانیہ میں گزاری اور اسے برطانوی عدالت نے برطانوی سرزمین پر کیے گئے سنگین جرائم میں سزا سنائی۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق شبیر احمد کی رہائی، نگرانی یا مستقبل کی قانونی حیثیت سے متعلق کوئی بھی فیصلہ برطانوی حکام کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو برطانوی قانون کے تحت اس شخص سے متعلق کیے جانے والے فیصلوں سے نہیں جوڑا جا سکتا۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان بچوں کے جنسی استحصال کے واقعے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف نسل، قومیت یا مذہب سے قطع نظر مکمل تحقیقات، مقدمہ اور قانون کے مطابق سخت سزا ہونی چاہیے۔
ترجمان نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ متعلقہ شخص کہاں پلا بڑھا، کہاں اس کی تربیت ہوئی اور کہاں اس نے جرائم کیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سنگین جرائم پر بیرونی وجوہات تلاش کرنے کے بجائے سنجیدہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔