اے آئی چیٹ بوٹس آمرانہ حکومتوں پر تنقید سے زیادہ گریز کرتے ہیں، تحقیق

ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے بڑے مصنوعی ذہانت کے نظام ایسے ممالک کے رہنماؤں اور حکومتوں پر تنقیدی مواد تیار کرنے سے زیادہ گریز کرتے ہیں، جہاں آزادیٔ اظہار پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔

میٹا کے نیم خودمختار نگران ادارے اوور سائٹ بورڈ نے اپنی تحقیق میں اوپن اے آئی، اینتھروپک، میٹا اور دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے 10 اے آئی ماڈلز کا جائزہ لیا۔ ماڈلز سے مختلف ممالک کے رہنماؤں پر تنقیدی پمفلٹ، نظمیں اور احتجاجی مواد تیار کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محدود آزادیٔ اظہار والے ممالک سے متعلق سیاسی مواد کی درخواستیں تقریباً 34 فیصد مواقع پر مسترد کی گئیں، جبکہ نسبتاً آزاد ممالک کے معاملے میں یہ شرح 14 فیصد رہی۔ بعض اے آئی ماڈلز نے ایسی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے مقامی قوانین کا حوالہ بھی دیا.

تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس رویے کے باعث سخت گیر حکومتوں کی جانب سے عائد کردہ پابندیاں ان ممالک سے باہر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر کسی آزاد ملک میں موجود شخص کو چین یا سعودی عرب سے متعلق احتجاجی مواد بنانے میں بھی دشواری پیش آ سکتی ہے۔

اوور سائٹ بورڈ نے یہ نہیں بتایا کہ اے آئی ماڈلز کے اس رویے کی کوئی ایک واضح وجہ کیا ہے۔ تاہم رپورٹ میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ تربیتی مواد میں موجود حکومتی بیانیے، مقامی قوانین، کمپنیوں کے قانونی خدشات اور جانبدار معلومات اس فرق کا سبب بن سکتی ہیں۔

ایک الگ علمی تحقیق میں بھی یہ سامنے آیا کہ ایک ہی اے آئی نظام مختلف زبانوں میں سیاسی سوالات کے مختلف جواب دے سکتا ہے۔ محققین کے مطابق اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ انگریزی، چینی اور دیگر زبانوں میں دستیاب آن لائن معلومات پہلے ہی ریاستی اداروں، سنسرشپ اور طاقتور حلقوں سے متاثر ہوتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی انٹرنیٹ سے معلومات کسی غیر جانبدار ماحول میں حاصل نہیں کرتا، بلکہ ایسے مواد سے سیکھتا ہے جسے مختلف حکومتوں، اداروں اور سماجی طاقتوں نے تشکیل دیا ہوتا ہے۔

اوور سائٹ بورڈ نے اے آئی کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی مختلف زبانوں میں جانچ کریں، تربیتی مواد کے بارے میں زیادہ شفافیت اختیار کریں اور آزادیٔ اظہار پر ممکنہ اثرات کا انسانی حقوق کے تناظر میں جائزہ لیں۔

تحقیق میں اس بات کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ حکومتوں نے جان بوجھ کر ان اے آئی نظاموں کے جوابات تبدیل کرائے ہیں۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں حکومتیں اے آئی کے تربیتی مواد اور جوابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر سکتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں