‘پاکستان لبنانی عوام اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے’، سیکیورٹی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان کا لبنان کی صورتحال پر شدید اظہارِ تشویش

لبنان کی موجودہ صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان کے سفیر عاصم افتخار احمد نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود لبنان میں سکیورٹی اور انسانی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں اور زمینی دراندازی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لبنان کے تقریباً 2 ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر، جو ملک کے قریباً 20 فیصد حصے کے برابر ہے، غیر قانونی قبضہ ہو چکا ہے جبکہ جبری انخلا کے احکامات شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اسرائیل کا وہی طرزِ عمل ہے جو دیگر خطوں میں دیکھا گیا ہے، جس میں اندھا دھند قتل، جبری بے دخلی اور قبضہ شامل ہے۔

پاکستانی سفیر نے بتایا کہ مارچ سے اب تک لبنان میں 3 ہزار 400 سے زائد افراد، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 10 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اسی عرصے میں 10 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 125 طبی کارکن ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسانی اور طبی عملے پر حملے انتہائی تشویشناک ہیں، جبکہ لبنان کے ثقافتی اور تاریخی ورثے کو بھی نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ٹائر کا یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ اور تاریخی اہمیت کا حامل بوفور قلعہ بھی حملوں اور قبضے کی زد میں آیا ہے۔

سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ یہ تمام اقدامات لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور بین الاقوامی قانون کی سنگین پامالی کے مترادف ہیں، جو خطے میں امن کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں کمی کے تمام سفارتی اقدامات کی حمایت کرتا ہے اور فریقین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ جنگ بندی پر مکمل عمل کریں اور اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 1741 پر عمل درآمد یقینی بنائیں، جس کے تحت اسرائیل کو بلو لائن تک مکمل انخلا کرنا چاہیے۔

پاکستانی نمائندے نے لبنان حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریاستی اتھارٹی کو مضبوط بنانا اور امن و امان کو یقینی بنانا لبنان کے اپنے حکام کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان لبنان کے عوام اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور خطے میں امن، استحکام اور امید کے لیے ہر ممکن سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں