پاکستان اور امریکا کے درمیان حالیہ تیل معاہدے کو بعض حلقے معاشی خوشخبری قرار دے رہے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ معاہدہ خطے کے امن، ہمسائیگی کے رشتے اور داخلی خودمختاری کے لیے کئی چیلنجز اور سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ خاص طور پر جب ایرانی صدر آج ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان کے سرکاری دورے پر آ رہے ہیں۔
یہ دورہ ایک حساس وقت پر ہو رہا ہے — ایک طرف ایران سے تعلقات مضبوط بنانے کی کوشش، اور دوسری طرف امریکی تیل کمپنیاں بلوچستان میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہیں۔
پاکستان اس وقت بیک وقت تین متضاد سمتوں میں آگے بڑھ رہا ہے۔ ایک طرف امریکا کے ساتھ تیل نکالنے کا معاہدہ ہو چکا ہے، دوسری طرف امریکا ہی سے تیل خریدنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جبکہ عوامی تاثر کے برعکس پاکستان ایران سے تیل درآمد نہیں کرتا، البتہ دونوں کے درمیان اسلامی و تہذیبی دوستانہ پڑوسی ملک کے نسبت تعلقات موجود ہیں۔ ان سب کے بیچ پاکستان کو ایک نازک توازن قائم رکھنا ہے تاکہ داخلی استحکام اور علاقائی ہم آہنگی برقرار رہ سکے۔
یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ امریکا مسلم دنیا میں “دوستی” کے بجائے ہمیشہ “مفاد” کی بنیاد پر آگے بڑھتا رہا ہے۔ عراق، لیبیا،لبنان، شام، افغانستان، ایران اور فلسطین کے تناظر میں امریکی پالیسی ہمیشہ شک کے نہیں بلکہ واضح یقین کے دائرے میں رہی ہے متضاد مبہم مشکوک۔ یہی طرزِعمل آج پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بھی واضح ہو رہا ہے۔ امریکا کی شمولیت خالصتاً بظاہر توانائی کے مفاد پر مبنی ہے، نہ کہ کسی دیرپا شراکت یا اسلامی دنیا کی فلاح کے جذبے سے۔ چنانچہ پاکستان کو اس “دوستی” کی قیمت صرف ڈالرز میں نہیں، بلکہ تعلقات، توازن اور سرحدی حساسیت میں بھی چکانی پڑ سکتی ہے۔
ایران اور امریکا کئی دہائیوں سے ایک دوسرے کے شدید دشمن ہیں۔ ایران کو امریکی عسکری، انٹیلیجنس اور اکنامک مداخلتوں پر ہمیشہ تشویش رہی ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان کے بلوچستان جیسے حساس اور ایران سے متصل صوبے میں امریکی شراکت داری شروع ہوتی ہے تو ایران کے لیے یہ خالص معاشی معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی اور سرحدی تحفظ کا سوال بن سکتا ہے۔
صورتحال کو مزید حساس اس وقت بنا دیا گیا جب پاکستان نے حالیہ دنوں میں ایرانی زائرین کے لیے زمینی سرحدیں بند کر دیں۔ اگرچہ اس اقدام کی وجوہات میں سیکیورٹی خدشات اور بلوچستان میں حالیہ بدامنی شامل ہے، لیکن ایران اسے یکطرفہ اقدام اور دوستانہ تعلقات کی خلاف ورزی تصور کر سکتا ہے۔
بلوچستان خود بھی اس پورے تناظر میں شدید اہمیت کا حامل ہے۔ ایک طرف یہ معدنیات سے مالامال علاقہ ہے اور دوسری طرف شورش زدہ بھی۔ یہاں چینی سرمایہ کاری پہلے ہی تخریب کاری کا نشانہ بن چکی ہے۔ اگر امریکی کمپنیاں بھی یہاں قدم رکھتی ہیں تو یہ علیحدگی پسند گروہوں کے لیے ایک نیا بیانیہ بن سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران بھی اس بڑھتی ہوئی غیرملکی موجودگی کو اپنی سرحد کے لیے خطرہ تصور کرے گا۔
ایرانی صدر کا موجودہ دورہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران پاکستان کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو نئی جہت دینا چاہتا ہے۔ لیکن یہ دورہ صرف اس وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب پاکستان ایران کو مکمل اعتماد میں لے، زائرین پر عائد پابندی کے مسئلے کو نرمی اور سفارتی تدبر سے حل کرے، اور امریکی منصوبے کی شفاف نوعیت کو بھی واضح کرے۔
پاکستان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ صرف توانائی کے حصول کے لیے پالیسی بنائے گا، یا وہ اس پورے عمل کو ایک ہمہ جہتی حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھائے گا۔ ایران جیسے ہمسایے کو ناراض کرنا نہ صرف تعلقات کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ بلوچستان میں پہلے سے موجود حساسیت کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔
یہ ایک ایسا لمحہ ہے جب پاکستان کو معاشی فائدے اور علاقائی توازن کے درمیان فاصلہ ناپنا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تیل تو نکل آئے، مگر تعلقات، امن اور عوامی اعتماد زمین میں دفن ہو جائیں۔