امریکا میں اوپن اے آئی کے نئے ماڈل تک رسائی حکومتی منظوری سے مشروط، مگر کیوں؟

امریکہ میں مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے کہا ہے کہ اس کے نئے اور جدید ترین اے آئی ماڈل تک ابتدائی رسائی صرف ان کمپنیوں یا اداروں کو دی جائے گی جن کی منظوری امریکی حکومت دے گی۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اوپن اے آئی اور اس کی حریف کمپنی انتھروپک سے کہا ہے کہ وہ اپنے سب سے طاقتور اے آئی ماڈلز تک رسائی دینے سے پہلے ہر نئے صارف یا کمپنی کے بارے میں حکومتی منظوری حاصل کریں۔

اوپن اے آئی کا نیا ماڈل GPT-5.6 Sol بتایا جا رہا ہے، جسے کمپنی نے اب تک کا اپنا طاقتور ترین ماڈل قرار دیا ہے۔ اس ماڈل کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ کوڈنگ، سائبر سکیورٹی اور پیچیدہ تکنیکی کاموں میں پہلے سے زیادہ بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔

اوپن اے آئی کے مطابق یہ پابندی مستقل انتظام نہیں بلکہ ابتدائی اور عارضی قدم ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ امریکی حکومت کے ساتھ مل کر ایسا طریقہ کار تیار کر رہی ہے جس کے بعد مستقبل میں طاقتور اے آئی ماڈلز کو زیادہ محفوظ انداز میں عام صارفین، ڈویلپرز، کمپنیوں اور سائبر سکیورٹی ماہرین تک پہنچایا جا سکے۔

اوپن اے آئی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ اس بات کے حق میں نہیں کہ حکومت ہمیشہ یہ فیصلہ کرے کہ جدید اے آئی ٹیکنالوجی کس کو ملے اور کس کو نہیں۔ کمپنی کے مطابق اگر یہ طریقہ مستقل بن گیا تو اس سے ان صارفین اور اداروں کی رسائی متاثر ہو سکتی ہے جنہیں یہ ٹیکنالوجی تحقیق، کاروبار، سکیورٹی اور دیگر مفید مقاصد کے لیے درکار ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کو خاص طور پر ان خطرات پر تشویش ہے کہ طاقتور اے آئی ماڈلز کو سائبر حملوں، سافٹ ویئر کی کمزوریاں تلاش کرنے یا حساس نوعیت کے کاموں میں غلط انداز سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے حکومت چاہتی ہے کہ ایسے ماڈلز کو وسیع پیمانے پر جاری کرنے سے پہلے ان کے ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا جائے۔

اوپن اے آئی کے علاوہ انتھروپک بھی اسی طرح کی حکومتی نگرانی کا سامنا کر رہی ہے۔ انتھروپک کے بعض جدید ماڈلز تک رسائی بھی حالیہ ہفتوں میں محدود کی گئی تھی، تاہم امریکی حکومت نے اب کچھ منتخب امریکی اداروں کو اس کے ایک طاقتور ماڈل تک محدود رسائی کی اجازت دی ہے۔

امریکی ٹیکنالوجی حلقوں میں اس پالیسی پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ طاقتور اے آئی ماڈلز کی نگرانی ضروری ہے تاکہ انہیں خطرناک مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت بغیر واضح قانون یا شفاف طریقہ کار کے یہ فیصلہ کرے گی کہ کون سی کمپنی اے آئی ماڈل استعمال کر سکتی ہے، تو اس سے جدت، کاروباری اعتماد اور عالمی شراکت داری متاثر ہو سکتی ہے۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے تیز رفتار پھیلاؤ، سائبر سکیورٹی خطرات اور قومی سلامتی سے متعلق خدشات پر بحث بڑھ رہی ہے۔ امریکہ میں اب سوال یہ ہے کہ جدید اے آئی ٹیکنالوجی کو محفوظ بھی کیسے رکھا جائے اور اس کی ترقی کو غیر ضروری پابندیوں سے بھی کیسے بچایا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں