ماؤنٹ مانگانوئی میں کھیلے گئے چوتھے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 115 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دے کر پانچ میچوں کی سیریز جیت لی۔ کیوی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 220 رنز کا مضبوط ہدف دیا، جس کے جواب میں پاکستانی ٹیم 105 رنز پر ہی ڈھیر ہوگئی۔ پاکستانی بیٹنگ لائن مکمل طور پر ناکام رہی، اور 9 کھلاڑی دوہرے ہندسے میں بھی داخل نہ ہوسکے۔
221 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی اننگز کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا۔ محمد حارث 2 رنز بنا کر جلدی پویلین لوٹ گئے، جبکہ حسن نواز، کپتان سلمان علی آغا، اور شاداب خان صرف 1،1 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوگئے۔ عرفان خان نے 24 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی، لیکن وہ بھی ٹیم کو مشکلات سے نہ نکال سکے۔ خوشدل شاہ 6، عباس آفریدی محض 1، اور دیگر کھلاڑی بھی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔ پاکستان کے لیے عبدالصمد سب سے زیادہ 44 رنز بنا کر نمایاں رہے، جبکہ شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف نے 6،6 رنز کا اضافہ کیا۔
نیوزی لینڈ کے باؤلرز نے شاندار کارکردگی دکھائی، جیکب ڈفی نے 4 وکٹیں حاصل کیں، زکری فولکس نے 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ ول اورورکی، اش سوڈھی، اور جیمز نیشم نے ایک ایک وکٹ لی۔
قبل ازیں، نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستانی باؤلنگ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ کیوی اوپنرز نے 59 رنز کی برق رفتار شراکت داری قائم کی اور ابتدائی 3.5 اوورز میں ہی 50 رنز مکمل کر لیے۔ ٹیم نے پاور پلے میں 79 رنز جوڑے اور صرف 7.2 اوورز میں 100 کا ہندسہ عبور کر لیا۔
ٹم سیفرٹ نے 22 گیندوں پر 4 چھکوں اور 3 چوکوں کی مدد سے 44 رنز بنائے، لیکن حارث رؤف نے انہیں خوشدل شاہ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کروا دیا۔
مارک چیپمین 24، فن ایلن 20 گیندوں پر 50، اور جیمز نیشم 3 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ مائیکل بریس ویل نے 44 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز کھیلی، جبکہ زکری فولکس 3 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
پاکستان کی جانب سے حارث رؤف نے 3، ابرار احمد نے 2، اور عباس آفریدی نے 1 وکٹ حاصل کی۔
نیوزی لینڈ نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کو 9 وکٹوں اور دوسرے میچ میں 5 وکٹوں سے شکست دی تھی، جبکہ تیسرے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان نے حسن نواز کی شاندار سنچری کی بدولت کیویز کو 9 وکٹوں سے شکست دے کر کم بیک کیا تھا۔ تاہم چوتھے میچ میں ایک بار پھر نیوزی لینڈ نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے پاکستان کو آؤٹ کلاس کر دیا اور سیریز اپنے نام کرلی۔