ذیابیطس کے مریضوں کو روزانہ اپنی شوگر لیول جانچنے کے لیے جو طریقے اختیار کرنا پڑتے ہیں، وہ اکثر تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ عموماً انگلی میں سوئی چبھو کر خون کا نمونہ لیا جاتا ہے یا پھر پیشاب کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے، اور بعض اوقات مریضوں کو لیبارٹری یا اسپتال بھی جانا پڑتا ہے۔ یہ سب مراحل خاص طور پر ان افراد کے لیے مشکل ہو سکتے ہیں جنہیں دن میں کئی مرتبہ شوگر چیک کرنی پڑتی ہے۔
تاہم اب بھارتی شہر بنگلورو کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے سائنسدانوں نے ایک ایسا متبادل طریقہ دریافت کیا ہے جو شوگر چیک کرنے کے روایتی طریقوں کی جگہ لے سکتا ہے۔ یہ نئی ٹیکنالوجی “فوٹو اکو سٹک سینسنگ” کہلاتی ہے۔ اس طریقے میں لیزر شعاعوں کی مدد سے خون میں گلوکوز کی مقدار معلوم کی جاتی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق جب یہ لیزر شعاعیں جسم کے ٹشوز پر پڑتی ہیں تو وہ معمولی سی حرکات پیدا کرتے ہیں، جو کہ ایک خاص قسم کے حساس ڈٹیکٹرز کے ذریعے محسوس کی جاتی ہیں۔ ان حرکات سے پیدا ہونے والی آواز کی لہروں کی شدت کا تجزیہ کر کے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ خون میں گلوکوز کی سطح کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ نہ صرف محفوظ ہے بلکہ تکلیف سے پاک اور زیادہ درست نتائج فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی مزید تجربات میں کامیاب ثابت ہوئی تو مستقبل میں ذیابیطس کے مریضوں کو روزانہ سوئی چبھونے کی تکلیف سے نجات مل جائے گی، اور وہ گھر بیٹھے باآسانی جدید انداز میں اپنی صحت کی نگرانی کر سکیں گے۔ یہ پیش رفت نہ صرف ایک سائنسی کامیابی ہے بلکہ لاکھوں افراد کے لیے زندگی آسان بنانے کا نیا در بھی کھول سکتی ہے۔