پاکستان کے وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے روایتی اور جڑی بوٹیوں پر مبنی ادویات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہیں ’’وقت کی ضرورت‘‘ قرار دیا ہے۔
منگل کے روز جڑی بوٹیوں اور روایتی ادویات سے متعلق ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس شعبے کے لیے اس وقت کوئی مخصوص قانون یا ضابطہ موجود نہیں، تاہم وزارتِ صحت نے مجوزہ قانون سازی کا مسودہ وزارتِ قانون کو بھجوا دیا ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) آئندہ چند ہفتوں میں روایتی اور جڑی بوٹیوں پر مبنی ادویات کے لیے باقاعدہ ضوابط متعارف کرائے گی۔
مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ کانفرنس کا مقصد علاج کے دیگر طریقوں یا ادویات کی مخالفت نہیں، کیونکہ صحت کے شعبے کا ہر نظام مریضوں کی دیکھ بھال میں اپنی الگ اہمیت اور کردار رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا صحت کا نظام بڑھتی ہوئی آبادی اور طبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ملک بھر میں نئے ہسپتال تعمیر کیے جا رہے ہیں اور طبی سہولیات کو بہتر بنایا جا رہا ہے، جو عوام کو بہتر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا مظہر ہے۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بیماریوں کے بوجھ میں کمی کے لیے احتیاط، دیکھ بھال اور متبادل طریقۂ علاج پر توجہ دینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دو روزہ کانفرنس سے سامنے آنے والی سفارشات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور انہیں مستقبل کی پالیسی سازی میں شامل کیا جائے گا۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ کانفرنس میں تیار کی جانے والی رہنما ہدایات کا بغور مطالعہ کیا جائے گا تاکہ پاکستان اس اہم شعبے میں دنیا سے پیچھے نہ رہے۔