آج کل سوشل میڈیا پر کورٹیسول یعنی ذہنی دباؤ سے جڑے ہارمون کے بارے میں بہت بات کی جا رہی ہے۔ کئی انفلوئنسرز دعویٰ کرتے ہیں کہ رات تین بجے آنکھ کھلنا، چہرے کی سوجن، پیٹ کی چربی اور تھکن جیسے مسائل کورٹیسول بڑھنے کی وجہ سے ہو سکتے ہیں۔
تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگوں کو کورٹیسول کنٹرول کرنے کے لیے سپلیمنٹس یا سوشل میڈیا مشوروں کی ضرورت نہیں ہوتی۔
کورٹیسول جسم کے لیے ایک ضروری ہارمون ہے، جو گردوں کے اوپر موجود ایڈرینل غدود سے بنتا ہے۔ یہ جسم میں سوزش، مدافعتی نظام، میٹابولزم، بلڈ پریشر اور دباؤ کے دوران مختلف جسمانی عمل کو متاثر کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کورٹیسول کی مقدار دن بھر بدلتی رہتی ہے۔ صبح جاگنے کے وقت یہ بڑھتا ہے اور رات کو سونے سے پہلے کم ہو جاتا ہے۔ بیماری، ذہنی دباؤ یا جسمانی دباؤ کے دوران بھی اس کی سطح بڑھ سکتی ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسے امراض نسبتاً کم ہوتے ہیں جن میں صرف کورٹیسول ہی اصل وجہ ہو۔ اگر کورٹیسول بہت کم ہو تو اسے ایڈرینل اِن سفیشنسی کہا جاتا ہے، جبکہ بہت زیادہ کورٹیسول کی حالت کو کشنگ سنڈروم کہا جاتا ہے۔ یہ بعض اوقات ایڈرینل یا پٹیوٹری غدود کے رسولیوں کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ خود سے کورٹیسول ٹیسٹ کروانا اکثر فائدہ مند نہیں ہوتا، کیونکہ ایک ہی ٹیسٹ سے مکمل تصویر واضح نہیں ہوتی۔ کورٹیسول کی تشخیص کے لیے مریض کی مجموعی صحت، علامات اور کئی ٹیسٹ دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق ہائی یا لو کورٹیسول کی علامات دوسری بیماریوں سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں۔ کم کورٹیسول میں تھکن، وزن کم ہونا، بلڈ پریشر کم ہونا اور بھوک کم ہونا شامل ہو سکتا ہے، جبکہ زیادہ کورٹیسول میں وزن بڑھنا، ہائی بلڈ پریشر، چہرے اور پیٹ پر چربی، نیند کے مسائل اور ہڈیوں کی کمزوری جیسی علامات ہو سکتی ہیں۔
ماہرین نے ایسے سپلیمنٹس سے بھی احتیاط کا مشورہ دیا ہے جو کورٹیسول کم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اشواگندھا یا میگنیشیم جیسے سپلیمنٹس کے بارے میں کیے جانے والے دعوے ہر شخص کے لیے ثابت شدہ علاج نہیں ہیں، اور غیر معیاری سپلیمنٹس نقصان دہ بھی ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو اپنی صحت کے بارے میں تشویش ہو تو اسے خود علاج کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
عام صحت مند افراد کے لیے ماہرین کا مشورہ ہے کہ کسی ایک ہارمون پر توجہ دینے کے بجائے بنیادی عادات بہتر بنائی جائیں، جیسے متوازن غذا، مناسب نیند، جسمانی سرگرمی اور ضرورت پڑنے پر ذہنی صحت کے ماہر سے مشورہ۔
ڈاکٹروں کے مطابق ذہنی دباؤ کو کم کرنا صحت کے لیے مفید ہے، لیکن ہر مسئلے کو کورٹیسول سے جوڑ دینا درست نہیں۔