بھارت میں دہلی پولیس نے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کو بھوک ہڑتال کے دوران صحت خراب ہونے پر زبردستی اسپتال منتقل کر دیا ہے۔
سونم وانگچک نئی دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے کارکنوں اور طلبہ کے ساتھ احتجاج میں شریک تھے۔ 59 سالہ انجینئر اور تعلیمی اصلاحات کے کارکن سونم وانگچک 20 دن سے بھوک ہڑتال پر تھے۔
یہ احتجاج بھارت میں امتحانی پرچے لیک ہونے کے الزامات، تعلیمی نظام میں اصلاحات اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پولیس نے جنتر منتر کے اطراف سکیورٹی سخت کر دی ہے اور احتجاجی مقام کو رکاوٹوں سے بند کیا گیا تھا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ سونم وانگچک کی صحت خراب ہونے کے بعد انہیں طبی مشورے اور عدالت کی ہدایت پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ نئی دہلی کے ڈپٹی کمشنر پولیس سچن شرما کے مطابق جب کچھ مظاہرین نے سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کرنے سے روکنے کی کوشش کی تو موقع پر تھوڑی دیر کے لیے ہنگامہ ہوا۔
کاکروچ جنتا پارٹی اور اس کے حامیوں نے پولیس کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہےکہ وانگچک کو زبردستی احتجاجی مقام سے ہٹایا گیا۔
سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال شروع کی تھی، جو 18 جولائی کو 21 ویں دن میں داخل ہو چکی تھی۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے کہا کہ وانگچک کو اسپتال لے جانے کے باوجود احتجاج جاری رہے گا۔

یہ تحریک مئی میں اس وقت شروع ہوئی جب بھارت کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران کچھ بے روزگار نوجوانوں کو “کاکروچ” سے تشبیہ دی۔ نوجوانوں نے اس لفظ کو طنزیہ انداز میں اپنی مزاحمتی شناخت بنا لیا اور اسی سے کاکروچ جنتا پارٹی کی مہم شروع ہوئی۔
اس تحریک نے چند دنوں میں انسٹاگرام پر 2 کروڑ 10 لاکھ سے زائد فالوورز حاصل کیے۔
تحریک کا مطالبہ ہے کہ امتحانی نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی جائیں، پرچے لیک ہونے کے معاملے کی شفاف تحقیقات ہوں، اور متاثرہ طلبہ کے خاندانوں کو معاوضہ دیا جائے۔ مظاہرین ان خاندانوں کے لیے بھی انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں جن کے بچوں نے پرچے لیک ہونے یا امتحانی نتائج سے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کی۔
سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال نے اس تحریک کو مزید توجہ دلائی، جبکہ ان کی صحت بگڑنے کے بعد اپوزیشن رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور عوامی شخصیات نے بھی تشویش ظاہر کی۔