سورج کی روشنی کا اصل رنگ: ہرا یا پیلا؟

یہ جان کر اکثر لوگ حیران ہوتے ہیں کہ سورج کی روشنی کا اصل رنگ تکنیکی طور پر سبز یا ہرا ہوتا ہے۔ یہ بات سائنس کی زبان میں اس لیے درست ہے کیونکہ سورج کی روشنی کی اسپیکٹرم میں سب سے زیادہ توانائی والی ویو لینتھ (Wavelength) ہرے رنگ کی ہوتی ہے۔ مگر پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں سورج کی روشنی پیلی کیوں نظر آتی ہے؟

جب سورج کی سفید روشنی زمین کے ماحول میں داخل ہوتی ہے تو اس میں موجود چھوٹے ویو لینتھ والے رنگ، جیسے نیلا اور بنفشی، نائٹروجن اور آکسیجن کے مالیکیولز سے ٹکرا کر زیادہ بکھر جاتے ہیں۔ یہ عمل “رائلی اسکیٹرنگ” (Rayleigh Scattering) کہلاتا ہے۔ نیلا رنگ چھوٹی ویو لینتھ ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ بکھرتا ہے، اسی لیے آسمان نیلا نظر آتا ہے، جبکہ پیلا، نارنجی اور سرخ رنگ نسبتاً کم بکھرتے ہیں، اس لیے یہ رنگ سورج سے ہماری آنکھوں تک زیادہ پہنچتے ہیں اور سورج پیلا یا نارنجی دکھائی دیتا ہے۔

انسانی آنکھ بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہماری آنکھ میں موجود کون سیلز (Cone Cells) تین بنیادی رنگوں (سرخ، سبز، نیلا) کو محسوس کرتی ہیں۔ جب سورج کی روشنی میں موجود نیلا رنگ بکھر جاتا ہے تو بچنے والے سبز اور سرخ رنگ مل کر پیلے رنگ کا تاثر دیتے ہیں۔ اس طرح ہماری آنکھ سورج کو پیلا محسوس کرتی ہے، حالانکہ اس کی روشنی میں سبز رنگ غالب ہے۔

دن کے مختلف اوقات میں سورج کا رنگ مختلف محسوس ہوتا ہے۔ جب سورج سیدھا سر کے اوپر ہوتا ہے تو روشنی کا راستہ کم ہوتا ہے اور بکھراؤ بھی کم ہوتا ہے، اس وقت سورج زیادہ سفید یا ہلکا پیلا دکھائی دیتا ہے۔ جبکہ غروب یا طلوع کے وقت سورج کی روشنی زیادہ فاصلے سے آتی ہے، زیادہ بکھرتی ہے اور باقی بچنے والی روشنی سرخ یا نارنجی ہوتی ہے، اس لیے سورج کا رنگ زیادہ گرم محسوس ہوتا ہے۔

یوں تو سورج کی روشنی کا اصل رنگ سبز ہوتا ہے، مگر ہماری آنکھ، زمین کا ماحول، اور روشنی کی بکھراؤ کی خصوصیات مل کر اسے پیلا دکھاتے ہیں، اسی لیے ہمیں دن کے مختلف اوقات میں سورج کا رنگ مختلف نظر آتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں