شیخ حمد بن خلیفہ الثانی نے قطر کی معیشت کو کیسے بدلا؟

قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق شیخ حمد کے 18 سالہ دورِ حکمرانی میں قطر نے ایک چھوٹی خلیجی معیشت سے عالمی توانائی، سرمایہ کاری اور سفارت کاری کے اہم مرکز تک کا سفر طے کیا۔ جب شیخ حمد 1995 میں اقتدار میں آئے تو قطر کی معیشت کا بڑا انحصار تیل پر تھا، جبکہ نارتھ فیلڈ کے وسیع گیس ذخائر کی ترقی ابھی ابتدائی مرحلے میں تھی۔ چند ہی برسوں میں قطر دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس برآمد کنندگان میں شامل ہو گیا۔

رپورٹ کے مطابق قطر نے 1996 میں اپنی پہلی مائع گیس کی کھیپ برآمد کی، اور 2010 تک اس کی پیداواری صلاحیت 77 ملین ٹن سالانہ تک پہنچ گئی۔

یہ تبدیلی صرف توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ شیخ حمد کے دور میں قطر نے اپنی قدرتی دولت کو طویل المدتی سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے، مالیاتی اداروں، تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی میں لگانے کی حکمت عملی اپنائی۔ الجزیرہ کے مطابق شیخ حمد کے دور میں قطر کے ہائیڈروکاربن شعبے کی قدر میں اضافہ تقریباً 11 ارب قطری ریال سے بڑھ کر 403 ارب قطری ریال تک پہنچ گیا۔

اسی گیس کے فروغ کے باعث قطر کی مجموعی معیشت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ قطر کی مجموعی قومی پیداوار 1995 میں تقریباً 8 ارب ڈالر تھی، جو 2013 تک بڑھ کر تقریباً 199 ارب ڈالر ہو گئی۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق قطر نے اس دوران دنیا کی بلند ترین معاشی ترقی کی شرحوں میں سے کچھ ریکارڈ کیں، جن میں 2006 میں 18 فیصد اور 2011 میں 26.2 فیصد حقیقی ترقی شامل تھی۔ شیخ حمد نے توانائی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو صرف بجٹ اخراجات تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے عالمی سرمایہ کاری کے ذریعے مستقبل کی آمدنی کا ذریعہ بنایا۔

2001 میں قطر نے اقتصادی امور اور سرمایہ کاری کے لیے اعلیٰ کونسل قائم کی، جس کا مقصد ملک کے مالی ذخائر کو مضبوط بنانا اور آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنانا تھا۔ بعد میں 2005 میں قطر سرمایہ کاری اتھارٹی قائم کی گئی، تاکہ تیل اور گیس کی برآمدات سے حاصل ہونے والی اضافی آمدنی کو منظم انداز میں عالمی سرمایہ کاری میں لگایا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق یہ ادارہ جلد ہی دنیا کے بڑے خودمختار سرمایہ کاری فنڈز میں شامل ہو گیا، جس نے بارکلیز، ووکس ویگن، ہیروڈز اور کئی دیگر عالمی اثاثوں میں سرمایہ کاری کی۔ آج اس ادارے کے اثاثوں کا تخمینہ 500 ارب ڈالر سے زیادہ لگایا جاتا ہے، جس سے قطر دنیا کے بڑے حکومتی سرمایہ کاروں میں شمار ہوتا ہے۔

شیخ حمد کے دور میں قطر نے صرف توانائی اور سرمایہ کاری ہی نہیں بلکہ تعلیم اور تحقیق کے شعبوں میں بھی بڑی پیش رفت کی۔
1995 میں قطر فاؤنڈیشن برائے تعلیم، سائنس اور سماجی ترقی قائم کی گئی، جس کا مقصد تعلیم، سائنسی تحقیق اور جدت کو فروغ دینا تھا۔

بعد میں قطر نے جارج ٹاؤن، ٹیکساس اے اینڈ ایم اور کارنیگی میلن جیسی بین الاقوامی جامعات کو ملک میں کیمپس قائم کرنے کے لیے راغب کیا۔ یہ قدم قطر کی اس حکمت عملی کا حصہ تھا جس کے تحت ملک کو تیل اور گیس کے بعد علم پر مبنی معیشت کی طرف لے جانا تھا۔

صحت کے شعبے میں بھی حمد میڈیکل کارپوریشن کی توسیع، نئے اسپتالوں اور خصوصی مراکز کے قیام کے ذریعے عوامی خدمات کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی۔

شیخ حمد کے دور میں قطر نے بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کی ترقی بھی شروع کی۔ حمد بین الاقوامی ہوائی اڈہ، حمد بندرگاہ، لوسیل شہر، جدید سڑکوں کا جال اور بعد میں دوحہ میٹرو کی بنیاد بننے والے منصوبے اسی عرصے میں شروع ہوئے۔ ان منصوبوں نے دوحہ کو ایک چھوٹے خلیجی شہر سے عالمی شہری مرکز میں بدلنے میں مدد دی۔

قطر کی 2022 فیفا ورلڈ کپ میزبانی بھی اسی دور کی اہم کامیابیوں میں شامل تھی۔ ورلڈ کپ کی میزبانی کے حق کے بعد قطر نے سڑکوں، اسٹیڈیمز، ریلوے، ہوائی اڈے اور بندرگاہی بنیادی ڈھانچے پر 200 ارب ڈالر سے زیادہ کے بڑے منصوبے شروع کیے۔

رپورٹ کے مطابق شیخ حمد کے دور میں قطر میں شہریوں کے معیارِ زندگی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق قطر دنیا کے بلند ترین فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک میں شامل ہوا، جبکہ رہائش، تعلیم اور صحت پر حکومتی اخراجات میں بھی اضافہ کیا گیا۔
قطر نے 2008 میں قطر قومی وژن 2030 بھی متعارف کرایا، جس کا مقصد آنے والی نسلوں کے لیے پائیدار ترقی، علم پر مبنی معیشت اور معاشی تنوع کو یقینی بنانا تھا۔

شیخ حمد کی معاشی میراث کا اہم پہلو یہ تھا کہ انہوں نے گیس سے حاصل ہونے والی غیر معمولی آمدنی کو صرف وقتی خوشحالی کے بجائے طویل المدتی ترقی کے ذرائع میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ ان کے دور میں قطر نے توانائی کی طاقت، عالمی سرمایہ کاری، تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور سفارتی اثر و رسوخ کو ایک ساتھ جوڑ کر اپنی نئی شناخت بنائی۔

یہی معاشی خاکہ آج بھی قطر کی پالیسیوں کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، جسے موجودہ امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے دور میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں