برطانیہ میں پولیس نے ایک اسلامی اجتماع کو لاحق مبینہ انتہائی دائیں بازو کے دہ-شت گردی خطرے کی تحقیقات کے سلسلے میں 12 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
الجزیرہ اور رائٹرز کے مطابق یہ گرفتاریاں اتوار اور پیر کے روز برطانیہ کے مختلف علاقوں میں کی گئیں۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کی عمریں 27 سے 82 برس کے درمیان ہیں۔ گرفتار افراد میں 11 مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ مشرقی انگلستان کے علاقے سفک میں منعقد ہونے والے ایک بڑے اسلامی اجتماع سے متعلق تھا، جس میں تقریباً 15 ہزار افراد شریک ہوئے۔
پولیس کو ممکنہ خطرے کی اطلاع ملنے کے بعد منتظمین کو اجتماع مقررہ وقت سے پہلے ختم کرنے کا مشورہ دیا گیا۔
لندن میں انسدادِ دہشت گردی پولیس کی سربراہ ہیلن فلینیگن نے کہا کہ سفک میں اسلامی اجتماع کے خلاف ممکنہ سنگین خطرے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کی اور ملک کے مختلف حصوں سے متعدد گرفتاریاں کیں۔
رپورٹ کے مطابق گرفتار مردوں میں سے 8 کو دہشت گردی سے متعلق شبہے میں حراست میں لیا گیا۔ تین مردوں کو قتل کی سازش کے شبہے میں گرفتار کیا گیا، جبکہ خاتون کو ایک ملزم کی معاونت کے شبہے میں حراست میں لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک ایسے شواہد نہیں ملے جن سے عام شہریوں کے لیے وسیع خطرہ ظاہر ہو۔ تاہم تحقیقات جاری ہیں اور برطانیہ کے مختلف علاقوں میں متعدد مقامات کی تلاشی لی جا رہی ہے۔
یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب برطانیہ میں نسلی کشیدگی اور نفرت پر مبنی جرائم میں اضافے پر تشویش پائی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اقلیتی برادریوں، خاص طور پر مسلمانوں، کو حالیہ عرصے میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیز مہمات اور حملوں کا سامنا رہا ہے۔
برطانیہ کے سرکاری استغاثہ ادارے نے رواں سال کے آغاز میں کہا تھا کہ پولیس کی جانب سے بھیجے گئے نفرت انگیز جرائم کے مقدمات کی تعداد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال جولائی سے ستمبر کے درمیان 4 ہزار 350 سے زائد ایسے مقدمات استغاثہ کو بھیجے گئے، جو پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں 14.7 فیصد زیادہ تھے۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرا پیغام بالکل واضح ہے۔ میں اپنی مسلمان برادریوں پر کسی بھی حملے یا اسلام دشمنی کی کسی بھی شکل کو ہرگز برداشت نہیں کروں گا۔