عام طور سے یہ ٹرینڈ دیکھنے میں آیا ہے کہ، بہت سے لوگ اچھی سرکاری ملازمتوں یا نجی شعبے سے ریٹائرمنٹ کے بعد امیگریشن لے کر کسی دوسرے ملک چلے جاتے ہیں، تاکہ وہاں ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی سکون سے گزار سکیں۔
معروف جریدے، سائیکالوجی اینڈ ایجنگ نے اس ایشو پر ایک تفصیلی ریسرچ سروے کرایا ہے، جس کے مطابق، جو لوگ ایسا کرتے ہیں، وہ زیادہ پریشان کن اور غیر مطمئن زندگی گزار پاتے ہیں۔ جریدے کے مطابق، نئے ملک میں اپنی کمیونٹی کی کمی کی وجہ سے تنہائی ایک انتہائی تکلیف دہ معاملہ ہو جاتی ہے ۔
ریسرچ کے مطابق، اگرچہ ریٹائرڈ تارکین وطن عام طور پر یہ ہی کہتے ہیں کہ، وہ خوش ہیں ، لیکن پھر بھی وہ خود کو ایک نئے ملک کے مطابق، ڈھالنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں ۔انہیں اپنے خاندان اور پرانے دوستوں سے اور اپنے بالغ بچوں سے رابطے کے فقدان کے ساتھ ساتھ نئے ملکوں میں نئی دوستیاں بنانے میں مشکل درپیش ہوتی ہے ۔
محققین کو معلوم ہوا کہ، سروےمیں شامل ریٹائرڈ تارکین وطن سماجی طور پر ان لوگوں کی نسبت زیادہ تنہائی محسوس کرتے تھے جو اپنے ہی ملک میں ریٹائرڈ زندگی گزار رہے تھے ۔