آئیے دیکھیے، کے پی میں قانون سازیاں ہو رہی ہیں

تحریک انصاف کی حکومت نے کے پی میں قانون سازیاں فرمائی ہیں۔ پڑھ کر شرم آتی ہے کہ کیسے ندیدوں کے سے انداز میں مراعات پر ہاتھ صاف کیا جا رہا ہے۔

مجھے اب یاد نہیں آ رہا یہ جسٹس وجیہہ الدین احمد صاحب تھے یا کون تھے، لیکن ان کی بات مجھے خوب یاد ہے۔ ان کا کہنا تھا تحریک انصاف والے جس چیز پر تنقید کر رہے ہوتے ہیں ، عین اسی و قت یہ وہی کام خود کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کا پروپیگنڈا کمال کا ہے یہ جھوٹ بڑے اعتماد سے بولتے ہیں، جس اعتماد سے یہ جھوٹ بولتے ہیں اس اعتماد سے دوسرے اپنا سچ بھی نہیں بول سکتے۔ اس لیے سب کچھ کر کے بھی پاک صاف رہتے ہیں اور دووسروں پر کیچڑ اچھالتے رہتے ہیں۔

تازہ قانون سازی ہی کو دیکھ لیجیے، اسے پڑھ کر بھی شرم آتی ہے، یا قربان ان انقلابیوں کے لیے جنہوں نے اسے قانون بنایا۔

غیر ملکی اور معتبر اشاعتی اداروں کے مطابق:

قانون کی شق 13 کے مطابق اراکین اسمبلی کسی بھی سرکاری مہمان خانے، بنگلے یا سرکاری نگرانی میں موجود رہائش گاہ میں تین دن تک مفت قیام کر سکتے ہیں۔ (ان کا ندیدہ پن دیکھیے، ہمیں بتایا جاتا تھا کہ سرکاری ریسٹ ہاؤس اب ہوٹلوں میں بدل دیے گئے ہیں اور وہاں سے آمدن آئے گی لیکن معلوم ہوا کہ واردات تو اب بھی جاری ہے اور مفت کی ہنڈیا بھی انقلاب کے چولہے پر ابل رہی ہے) ۔

اراکین اسمبلی کے لیے نان پروہیبٹڈ اسلحے کے لائسنسوں کی تعداد چار سے بڑھا کر آٹھ کر دی گئی ہے، جن میں چار مفت جبکہ چار متعلقہ فیس ادا کر کے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ( یہ قومی اسمبلی میں ممنوعہ بور کے اسلحے کے خلاف لمبی لمبی تقریریں کرتے تھے اور دو چار کو تو میں نے ان تقاریر کے بعد داد بھی دی تھی لیکن اب یہ حال ہے کہ انہوں نے اسلحہ تو ہتھیانا ہی ہے ، یہ اس کی فیس دینے کے بھی روادار نہیں ہیں۔ چندے کا کلچر ان کی رگوں میں اتر گیا ہے۔ پلے سے دینا اپنے قائد کی طرح یہ بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں) ۔

اراکین اسمبلی بدستور ٹول ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ (اندازہ کیجیے ، کنال کنال کی گاڑیوں میں یہ دندناتے پھرتے ہیں لیکن ٹول ٹیکس انہوں نے نہیں دینا۔ ٹول ٹیکس دے دیا تو ملک میں انقلاب کیسے آئے گا۔ تبدیلی کی گود کیسے بھرے گی اور دو نہیں ایک پاکستان کا خواب کیسے شرمندہ تعبیر ہو گا)۔

اراکین اسمبلی کی بیگمات کو اسمبلی کا شناختی کارڈ جاری کرنے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ (پنجابی میں کہتے ہیں ہوچھے جٹ کٹورا لبھیا ، پانی پی پی آپھریا)۔

اراکین اسمبلی ملک بھر کے ایئرپورٹس پر وی آئی پی لاؤنج استعمال کر سکیں گے جبکہ اراکین اسمبلی اور ان کی بیگمات کو سرکاری پاسپورٹ جاری کرنے کی شق وفاقی قوانین سے مشروط رکھی گئی ہے۔ (اس پر جو تردید کی گئی ہے وہ بھی کمال کی فنکاری ہے۔ یہ نہیں کہا کہ ہم نے ایسی کوئی شق شامل نہیں کی بلکہ نیم خواندہ سماج کو دھوکہ دیتے ہوئے کہا کہ پاسپورٹ تو وفاق جاری کرتا ہے ہمارا اس سے کیا لینا دینا)۔ پورا سچ مگر یہ ہے کہ قانون بنایا گیا ہے اور اب وفاق کی منظوری سے مشروط ہے۔

اراکین اسمبلی مختلف کلبز کی رکنیت سرکاری ملازمین کی طرح حاصل کر سکیں گے اور اپنی ذاتی گاڑیوں میں ٹنٹڈ شیشے بھی استعمال کر سکیں گے۔ (سرکاری زمینوں پر یہ نو آبادیاتی کلب ہیں۔ مفت کا مال ہے۔ کہیں اسلام آباد کلب ہے کہیں جم خانہ ہے۔ سالوں پہلے میں ان کے خلاف پروگرام کرتا تھا تو برادر علی محمد خان بھرپور انداز سے میری تائید فرمایا کرتے تھے۔ اب انقلاب کے انداز بدل گئے ہیں۔ اب اگر بانکے میاں کلبوں میں مفتا نہیں لگائیں گے تو ملک کی قسمت کیسے بدلے گی؟)۔

سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور ان کے شریک حیات سرکاری خرچے پر فرسٹ کلاس یا بزنس کلاس میں سفر کر سکیں گے ۔ (پی آئی اے تو ختم ہو گئی ، اب ان نونہالوں کے مفتوں کا پیسہ کہاں سے آئے گا۔ عوام کی رگوں سے نکالا جائے گا) ۔

سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے دو نجی ملازمین بھی سرکاری خرچے پر اکانومی کلاس میں سفر کر سکیں گے۔ (صدقے جائیں ان کی بندہ پروری پر۔ اب کوئی پٹواری اس کی حکمت نہیں سمجھ سکے تو یہاں اس کا قصور ہے ورنہ انہوں نے تو جو اپنے لیے پسند کیا وہی ملازمین کے لیے بھی پسند کیا۔ اس سے بڑی انصاف پسندی اور غریب پروری کیا ہو سکتی ہے) ۔

سپیکر، ڈپٹی سپیکر، ان کے شریک حیات اور دو نجی ملازمین ملک کے اندر اور بیرون ملک ٹرین اور فیری کے ذریعے بھی سرکاری خرچے پر سفر کر سکیں گے۔ (بنے گا نیا پاکستان)۔

ڈھنگ کا کوئی کام انہوں نے نہیں کیا۔ کسی سنجیدہ کام کی طرف توجہ مبذول کرائی جائے تو کہتے ہیں ہمیں کام کرنے کا مینڈیٹ نہیں ملا ، ہمیں تو خان کو رہا کروانے کا مینڈیٹ ملا ہے۔ ان سے کوئی پوچھے، خان کیا اس بندر بانٹ کے ذریعے رہا کرواؤ گے؟

پنجاب حکومت جہاز خریدتی ہے اور سوال اٹھتا ہے تو جواب دیتی ہے ہاں لیا ہے جہاز ۔ اور پنجاب حکومت پر تنقید کرنے والے چوتھے ہی روز مال غنیمت پر پیٹ پھیلا کر بیٹھ جاتے ہیں اور دہائی دیتے ہیں کہ: مال غیمت، میرا بھی تو ہے۔ سوال یہ ہے کہ دونوں میں فرق کیا ہے۔ ساتھ تیسرے کو بھی شامل کر لیجیے ، یہ وہ گورنر ہیں جو روز اقوال زریں سناتے ہیں لیکن مراعات کا بل آیا تو اخباری اطلاعات کے مطابق انہوں نے بھی ہاتھ صاف کر لیے کہ مال اگر مفت کا ہو تو پیپلز پارٹی کے گورنر کو کیا اختلاف ہو سکتا ہے۔

ن لیگ کا معاملہ یہ ہے کہ جہاز والا غلط کام کیا ہے تو ساتھ کئی اچھے کام بھی کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کا مسئلہ تو یہ ہے کہ ڈھنگ کا کوئی کام اس سے نہیں ہوتا سوائے دوسروں کو گالیاں دینے کے۔ دوسروں کے بارے میں ایسے ایسے اقوال زریں سناتے ہیں کہ لگتا ہے ساری جماعت ہی درویشوں اور قلندروں پر مشتمل ہے لیکن نامہ اعمال ایسا ہے کہ علی بابا چالیس چور کی کہانی یاد آ جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں