میں گزشتہ کئی برسوں سے ازبکستان میں مقیم ہوں۔ یہاں کے نظام کو بڑے قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ یہاں پر صاف ستھری سڑکیں، منظم ٹریفک، مضبوط ادارے، قانون کی حکمرانی اور عوام کو میسر سہولتیں دیکھ کر اکثر میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کاش پاکستان میں بھی ایسا ہی نظام قائم ہو۔
میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر میرے دل میں یہ خواہش جنم لے سکتی ہے تو ہمارے حکمران جب ترقی یافتہ ممالک کے دوروں پر عوامی سہولتیں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو ان کے دل میں یہ خواہش کیوں نہیں جاگتی کہ پاکستان میں بھی ایسا ہی نظام قائم کیا جائے۔
آئیے اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں۔
میری ناقص رائے میں پاکستان کا بنیادی مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ اقتدار کی وہ سیاست ہے جو عوام کی محرومیوں سے اپنی طاقت حاصل کرتی ہے۔
یقین جانیے ہمارے اکثر سیاستدان اس میں دلچسپی نہیں رکھتے کہ ریاستی نظام اس قدر مضبوط اور خودکار ہو جائے کہ عام آدمی کو اپنے جائز کام کے لیے کسی بااثر شخصیت کے دروازے پر جانا ہی نہ پڑے۔ کیونکہ جس دن ادارے واقعی قانون کے مطابق کام کرنے لگے اور عوام کو سہولیات فراہم کرنے لگے اسی دن ان سیاست دانوں کی وہ سیاسی عمارت زمین بوس ہوجائے گی جو عوام کی مجبوریوں اور ضرورتوں کی بنیادوں پر کھڑی ہے۔
آج ہمارے ہاں عام آدمی کبھی بجلی کا بل درست کروانے کے لیے یونین کونسل کے چیئرمین کے پاس جاتا ہے، کبھی گیس کا میٹر لگوانے کے لیے ایم پی اے کی سفارش ڈھونڈتا ہے، کبھی پولیس اسٹیشن سے اپنے کسی بے گناہ بیٹے یا عزیز کی رہائی کے لیے سیاسی شخصیت کا سہارا لیتا ہے، تو کبھی سرکاری دفتر میں اپنا جائز کام کروانے کے لیے ایم این اے کے دربار میں غلاموں کی طرح ہاتھ باندھے کھڑا ہوتا ہے۔
یہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ یہ تمام کام ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہیں، نہ کہ کسی منتخب نمائندے کی ۔ لیکن ان منتخب نمائندوں نے جان بوجھ کر ریاستی اداروں کو کمزور اور لاغر بنا رکھا ہے تاکہ عوام انہی “مسیحاؤں” کو اپنے مسائل کا واحد حل سمجھیں اور ان کے بلند و بالا محلوں میں سوالی بن کر کھڑے رہیں۔
یقین جانیے پاکستان میں سیاستدان اپنے حلقے کو جاگیر اور عوام کو اپنی رعایاسمجھتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ اگر ان کے حلقے کے لوگ تعلیم یافتہ اور خودمختار بن گئے ، اگر انہیں ریاستی اداروں سے آسانی سے انصاف اور سہولتیں ملنے لگیں تو ان کی بادشاہت بلکہ آمریت کمزور پڑ جائے گی اور یہ وہ کسی صورت نہیں چاہتے۔
یہی سبب ہے کہ دوسرے ممالک کا نظام دیکھتے وہ بھی ہیں مگر اسے ہماری پہنچ سے دور رکھنا چاہتے ہیں ۔ کیونکہ وہ ہمیں اپنے قریب دیکھنا چاہتے ہیں۔ یعنی کاسہ اٹھائے اپنے اردگرد۔