چین کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تجربے پر امریکا سمیت دیگر ممالک کو تشویش کیوں ہے؟

چین نے جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوز سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے، جس پر امریکا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان اور بحرالکاہل کے بعض ممالک نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ میزائل پیر کو بحرالکاہل کے بین الاقوامی پانیوں کی طرف داغا گیا۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا نے کہا کہ یہ تجربہ معمول کی سالانہ تربیت کا حصہ تھا، جو بین الاقوامی قانون کے مطابق کیا گیا اور کسی ملک یا ہدف کے خلاف نہیں تھا۔ چینی حکام کے مطابق اس میزائل میں حقیقی جوہری وارہیڈ نہیں بلکہ فرضی وارہیڈ نصب تھا۔

چین نے میزائل کی قسم نہیں بتائی ہے، تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق یہ JL-2 یا JL-3 آبدوز سے داغا جانے والا بیلسٹک میزائل ہو سکتا ہے۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ ممکنہ طور پر JL-3 میزائل تھا، جس کی مار کرنے کی صلاحیت 10 ہزار کلومیٹر سے زائد بتائی جاتی ہے۔

یہ تجربہ اس لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ آبدوز سے داغے جانے والے طویل فاصلے کے میزائل کسی ملک کی جوہری دفاعی صلاحیت کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔ ایسے میزائل سمندر میں چھپی آبدوزوں سے داغے جا سکتے ہیں، جس سے دشمن کے لیے انہیں پہلے سے نشانہ بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔

آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان اور امریکا نے اس تجربے پر اعتراض کیا ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ چین نے ناکافی پیشگی اطلاع دی اور اس قسم کی کارروائی خطے میں عدم استحکام بڑھا سکتی ہے۔

آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے اسے خطے کے لیے اشتعال انگیز اور عدم استحکام پیدا کرنے والا اقدام قرار دیا ہے۔ نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے بھی کہا کہ بحرالکاہل کو میزائل تجربات کے میدان کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

نیوزی لینڈ کے مطابق میزائل کا تجربہ جنوبی بحرالکاہل کے نیوکلیئر فری زون کے معاہدے کی روح کے خلاف ہے۔ یہ زون 1986 کے معاہدۂ راروٹونگا کے تحت قائم کیا گیا تھا، جس کا مقصد خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک رکھنا ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ اس تجربے کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے، اس کا مقصد قومی سلامتی اور معمول کی فوجی تربیت سے متعلق تھا۔

ماہرین کے مطابق اصل تشویش صرف میزائل تجربہ نہیں بلکہ چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی عسکری طاقت اور اس کے دفاعی پروگرام میں شفافیت کی کمی ہے۔ چین اس وقت دنیا کی سب سے بڑی بحریہ رکھتا ہے، اور صدر شی جن پنگ کے دور میں پیپلز لبریشن آرمی کی جدید کاری کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چین اپنے جوہری وارہیڈز، طویل فاصلے کے میزائل، ڈرونز اور جدید بحری صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔

خطے میں یہ پیش رفت ایک ایسےوقت میں ہو رہی ہے جب تائیوان، جنوبی بحیرہ چین اور بحرالکاہل میں چین کی فوجی سرگرمیوں پر پہلے ہی تناؤ موجود ہے۔

دوسری جانب جاپان نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ شروع کر دیا ہے، جبکہ فلپائن نے امریکا کو مزید فوجی اڈوں تک رسائی دی ہے۔ آسٹریلیا بھی بحرالکاہل میں دفاعی معاہدوں کے ذریعے چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق چین کا یہ میزائل تجربہ بیجنگ کی بڑھتی ہوئی جوہری اور بحری صلاحیت کا پیغام ہے، مگر ساتھ ہی یہ خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ، عدم اعتماد اور عسکری کشیدگی کو بھی بڑھا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں