لاہور کے ہسپتال: پنجاب حکومت کہاں کھڑی ہے ؟

گزشتہ چند روز سے والدہ کی بیماری کے سبب لاہور کے مختلف پرائیویٹ ہسپتالوں اور لیبارٹریوں میں جا رہا ہوں ۔ایک سوال جو بار بار میں ذہن میں گونج رہا ہے کہ پاکستان جہاں زیادہ تر آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہی ہے ، اگر انہیں کوئی بیماری لاحق ہو جائے تو کیا وہ بھی ان ہسپتالوں سے ایسا ہی علاج کروا سکتے ہیں ؟ اس کا فوری جواب نفی میں تھا ۔میں یہاں پاکستان یا پنجاب کی بات نہیں کر رہا میں صرف صوبائی دارالحکومت لاہور کا ذکر کر رہا ہوں ۔وہی لاہور جو تقریبا ڈیڑھ کروڑ آبادی کا شہر ہے اور جہاں چند لاکھ امیروں کے ساتھ ساتھ ستر فیصد غریب لوگ قیام پذیر ہیں ۔

سوال اتنا سا ہے کہ اگر یہ غریب طبقہ کسی پچیدہ بیماری کا شکار ہو جائے تو کیا ریاست اس کے مکمل علاج معالجے کی ذمہ داری اٹھا سکتی ہے ؟  اس سوال کا جواب جاننا ہو تو صبح دس بجے سے دوپہر ایک بجے کے دوران لاہور کے کسی بھی سرکاری ہسپتال کے آوٹ ڈور کا وزٹ کر لیجئے ،جواب آپ کو مل جائے گا ۔
جی بالکل سرکاری ہسپتالوں میں ایک ڈاکٹر ایک دن میں اوسطا ستر سے اسی مریضوں کا چیک اپ کرتا ہے ۔جیسے ہی ڈاکٹر صاحب کی ڈیوٹی کا وقت ختم ہوجاتا ہے لائن میں لگے سینکڑوں مریض کو کل آنے کا کہہ دیا جاتا ہے ۔لوگ سسکتے کراہتے کل کی امید پر واپس گھروں کو لوٹ جاتے ہیں ۔

شاید آپ کو یہ جان کر حیرت ہو کہ لاہور میں 1996 کے بعد آج تک کوئی بڑا سرکاری جنرل ہسپتال نہیں بنایا گیا ۔یعنی اس وقت لاہور میں جتنے میں بڑے ہسپتال ہیں وہ 1996سے قبل وجود میں آئے تھے ۔ یہ بھی ایک بد قسمتی ہی ہے کہ لاہور میں چند ہی بڑے سرکاری جنرل ہسپتال موجود ہیں ۔جن میں میو ہسپتال 1871 میں قائم ہوا، سر گنگا رام ہسپتال 1921 میں، سروسز ہسپتال 1958 میں، لاہور جنرل ہسپتال 1958 میں، شیخ زید ہسپتال 1986 میں جبکہ جناح ہسپتال 1996 میں قائم ہوا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان اداروں میں وقتاً فوقتاً نئے بلاکس، ایمرجنسی وارڈز اور جدید مشینری ضرور شامل ہوتی رہی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ تقریباً تیس برسوں میں لاہور میں میو، جناح، سروسز یا لاہور جنرل ہسپتال کے درجے کا کوئی نیا بڑا سرکاری جنرل ہسپتال قائم نہیں ہوا۔

اگر ہم انہی تیس برسوں میں لاہور میں بننے والے پرائیویٹ ہسپتالوں کی جانب نگاہ ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس دوران ڈاکٹرز ہسپتال، نیشنل ہسپتال، سرجی میڈ، فاروق ہسپتال، عادل ہسپتال، عمار میڈیکل کمپلیکس، بحریہ انٹرنیشنل ہسپتال، ایورکیئر، سلیم میموریل اور متعدد دوسرے بڑے ملٹی اسپیشلٹی ہسپتال وجود میں آ گئے۔ اس کے علاوہ درجنوں درمیانے درجے کے نجی ہسپتال بھی قائم ہوئے۔ گویا ریاست نے جب عوام کی صحت کے معاملے میں ہاتھ اٹھا لئے تو پرائیوٹ سیکٹر نے اسے موقع غنیمت جانا اور میدان میں کود پڑا ۔یہی وجہ ہے کہ آج لاہور میں نجی ہسپتال ایک مافیا کی صورت اختیار کر چکے ہیں ۔

انہیں تیس سالوں کو زرا ایک اور زاویہ سے دیکھئے ۔1996ء میں لاہور کی آبادی تقریباً پچاس سے پچپن لاکھ کے درمیان تھی۔ آج یہی شہر تقریباً ڈیڑھ کروڑ نفوس پر مشتمل ایک بڑا شہر بن چکا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا میں تقریباً چورانوے ممالک ایسے ہیں جن کی پوری آبادی ڈیڑھ کروڑ سے بھی کم ہے۔ ان میں متحدہ عرب امارات، سنگاپور،کویت،عمان،نیوزی لینڈ،اردن، آسٹریا، سوئٹزرلینڈ، قطر، بحرین، کویت، قبرص، مالٹا اور متعدد دوسرے ممالک شامل ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو لاہور اکیلا دنیا کے تقریباً نصف ممالک سے زیادہ آبادی رکھنے والا شہر بن چکا ہے۔صرف تین دہائیوں میں لاہور کی آبادی تقریباً تین گنا ہو گئی ہے لیکن سرکاری ہسپتال اتنے ہی ہیں جتنے پچاس لاکھ شہریوں کی ضرورت کیلئے بنائے گئے تھے ۔

لاہور کی آبادی آج تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہو چکی ہے مگر اس کے شہریوں کیلئے صوبائی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا جبکہ دوسری جانب دنیا میں جن ممالک کی آبادی لاہور سے کم ہے وہاں عوام کی صحت پر حیران کن وسائل خرچ کئے جاتے ہیں ۔ میں نے کچھ اعداد و شمار نکالے ہیں آپ بھی ملاحظہ فرمائیں ۔آسٹریا ہر سال تقریباً 50 سے 52 ارب امریکی ڈالر صحت کے شعبے پر خرچ کرتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا سالانہ صحتی بجٹ 15 سے 18 ارب ڈالر کے درمیان ہے، جبکہ سنگاپور اپنی صرف ساٹھ لاکھ آبادی کے لیے 13 سے 15 ارب ڈالر مختص کرتا ہے۔ نیوزی لینڈ، جس کی آبادی لاہور کے ایک تہائی کے برابر بھی نہیں، ہر سال 22 سے 24 ارب ڈالر صحت پر خرچ کرتا ہے۔ اسی طرح کویت 7 سے 8 ارب ڈالر، عمان 4 سے 5 ارب ڈالر اور اردن 3 سے 4 ارب ڈالر اپنی عوام کی صحت پر خرچ کرتے ہیں۔ ان اعداد و شمار کو سامنے رکھ کر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب لاہور کی آبادی ان ممالک کے برابر بلکہ بعض سے زیادہ ہے تو کیا ہمارے اس شہر کو بھی اسی تناسب سے جدید سرکاری ہسپتال، طبی سہولتیں اور صحت کا بجٹ ملا ہے؟ اگر نہیں، تو آخر اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ یہ سوال اپنے سیاستدانوں سے ضرور پوچھئے گا۔

ظاہر ہے جب حکومت نے آبادی کے تناسب سے لاہور میں نئے ہسپتال نہیں بنائے تو پھر پرائیویٹ ہسپتالوں کیلئے تو میدان کھلا تھا ، سو انہوں نے اس کا فائدہ اٹھایا ۔ اگرچہ پرائیوٹ ہسپتالوں نے آبادی اور ہسپتالوں کے درمیان پیدا ہونے والے اس خلا کو پُر کیا ،تاہم قیمت بھی اپنی مرضی کی وصول کی۔آج جدید علاج ،جدید مشینری، آرام دہ کمرے اور فوری سہولتیں تو نجی ہسپتالوں میں مل جاتی ہیں، مگر ان کی فیسیں اتنی زیادہ ہیں کہ عام آدمی اپنا گھر بار بیچ کر بھی ان سہولتوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا ۔

ظاہر ہے سرکاری ہسپتالوں میں علاج سستا ہوتا ہے کیونکہ ان ہسپتالوں کو سرکاری سرپرستی حاصل ہوتی ہے جبکہ پرائیوٹ ہسپتال صرف کاروباری ادارے ہیں ۔نجی ہسپتالوں کے مالکان اپنے ہسپتالوں کو فیکٹریوں اور انڈسٹری کی طرح چلاتے ہیں ۔اگر ایک مریض سرکاری ہسپتال جاتا ہے تو ای سی جی، ایکسرے اور الٹراساؤنڈ جیسے بنیادی ٹیسٹ اکثر مفت یا انتہائی معمولی فیس پر ہو جاتے ہیں۔ کئی سرکاری اداروں میں ڈائیلیسز بھی مفت یا نہایت کم خرچ پر کیا جاتا ہے۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی جیسے اداروں میں ضرورت مند مریضوں کے لیے انجیوگرافی، انجیو پلاسٹی، سٹنٹ اور بائی پاس جیسے مہنگے علاج بھی سرکاری معاونت کے باعث عام آدمی کی پہنچ میں رہتے ہیں۔

لیکن اگر یہی مریض کسی بڑے پرائیوٹ ہسپتال کا رخ کرے تو صورتحال یکسر مختلف ہوتی ہے۔ ایک ای سی جی کے ایک سے تین ہزار روپے، ایکسرے کے دو سے پانچ ہزار روپے، الٹراساؤنڈ کے تین سے آٹھ ہزار روپے، ایک ڈائیلیسز سیشن کے آٹھ سے اٹھارہ ہزار روپے، انجیوگرافی کے پینتیس ہزار سے نوے ہزار روپے، نارمل ڈلیوری کے چالیس ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے، سیزیرین کے ایک لاکھ بیس ہزار سے ساڑھے تین لاکھ روپے، دل میں سٹنٹ ڈالنے پر ساڑھے تین لاکھ سے نو لاکھ روپے، جبکہ بائی پاس آپریشن پر نو لاکھ سے پچیس لاکھ روپے تک وصول کئے جاتے ہیں ۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر لاہور جیسے شہر میں علاج کی سہولتیں صرف وہی شخص حاصل کر سکتا ہے جو لاکھوں روپے ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہو تو پھر غریب اور کم آمدنی والے شہری علاج معالجے کیلئے کہاں جائیں ؟

ہم اکثر سڑکوں، پلوں، انڈر پاسز، میٹرو بسوں اور اورنج لائن جیسے منصوبوں پر فخر کرتے ہیں۔ یقیناً انفراسٹرکچر بھی ترقی کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن کسی بھی مہذب ریاست کی اصل پہچان اس کے ہسپتال، سکول، عدالتیں اور پولیس ہوتی ہیں۔ تاہم ہماری بدقسمتی دیکھئے کہ ہمیں وہ حکمران ملے جو صرف ظاہری نمود و نمائش میں لگے رہے اور عوام کے حقیقی مسائل کو مسلسل نظر انداز رکھا ۔گزشتہ اٹھارہ سالوں میں ساڑے تین سال پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے سوا پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہے ۔لطف کی بات یہ ہے کہ مسلم لیگ کی قیادت کا اپنا تعلق بھی لاہور سے ہے ،اس کے باوجود انہوں نے لاہوریوں کے ساتھ یہ ناروا سلوک روا رکھا ہے ۔میری ناقص رائے میں اب وقت آ گیا ہے کہ ہم پنجاب کے حکمرانوں سے یہ پوچھیں کہ حضور جب لاہور کی آبادی پچاس لاکھ سے بڑھ کر تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہو گئی ہے تو اس عرصے میں میو، جناح، سروسز یا جنرل ہسپتال کے درجے کا کتنے نئے سرکاری جنرل ہسپتال قائم کیے گئے ہیں؟

اپنا تبصرہ لکھیں