نیٹو کا دو روزہ سربراہی اجلاس ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں شروع ہو گیا ہے، جہاں 32 رکن ممالک کے رہنما شرکت کر رہے ہیں۔
یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو اتحادیوں پر دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دوبارہ دباؤ ڈال رہے ہیں، جبکہ یورپی ممالک اربوں ڈالر کے نئے دفاعی معاہدوں کے اعلان کی تیاری کر رہے ہیں۔
گزشتہ سال نیٹو ممالک نے دفاعی اخراجات کا ہدف مجموعی قومی پیداوار کے 5 فیصد تک بڑھانے پر اتفاق کیا تھا، جس میں 3.5 فیصد براہِ راست فوجی اخراجات اور 1.5 فیصد سکیورٹی سے متعلق ضروریات کے لیے رکھا گیا تھا۔
انقرہ اجلاس میں نیٹو کے تمام 32 رکن ممالک کے رہنما شریک ہیں۔ ان کے علاوہ یوکرین کے صدر ولادیمر زیلینسکی اور جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ بھی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں، اگرچہ دونوں ممالک نیٹو کے رکن نہیں ہیں۔
آسٹریلیا، جاپان اور نیوزی لینڈ اپنے دفاعی یا خارجہ وزرا بھیج رہے ہیں، جبکہ بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ممالک بھی نمائندگی کر رہے ہیں۔
اجلاس میں یوکرین کا معاملہ بھی اہم ہے۔ یوکرینی صدر زیلینسکی امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات میں اضافی پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹمز کی فراہمی کا مطالبہ کریں گے، کیونکہ حالیہ دنوں میں روسی حملوں میں شدت آ گئی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یوکرین چاہتا ہے کہ نیٹو ممالک اسے سیاسی، عسکری اور تکنیکی مدد جاری رکھنے کا واضح پیغام دیں، تاکہ روس کو یہ اشارہ ملے کہ اگلے 12 سے 24 ماہ میں یوکرین کی دفاعی صلاحیت کم نہیں ہو گی۔
الجزیرہ کے مطابق، یورپی ممالک اس اجلاس میں بڑے دفاعی معاہدوں کے ذریعے یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ نیٹو کی دفاعی ذمہ داریوں میں زیادہ حصہ ڈال رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق نیٹو رہنما انقرہ اجلاس کے موقع پر دسیوں ارب ڈالر کے بڑے اسلحہ معاہدوں کا اعلان کرنے والے ہیں، جن کا مقصد یورپی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کرنا اور امریکا کے ساتھ بوجھ بانٹنے کا پیغام دینا ہے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کی میزبانی میں ہونے والا یہ اجلاس سیاسی طور پر بھی اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ ترکیہ حالیہ برسوں میں دفاعی صنعت اور فوجی برآمدات کے شعبے میں نیٹو کے نمایاں ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اجلاس سے قبل جرمنی کے دفاعی اخراجات کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ جرمنی اپنی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے کے لیے تاریخ کی سب سے بڑی کوشش کر رہا ہے۔
امریکا کی جانب سے نیٹو ممالک سے جنگی طیاروں، بحری جہازوں اور آبدوزوں کی مرحلہ وار واپسی کے اعلانات نے بھی یورپی اتحادیوں میں تشویش پیدا کی ہے۔
ماہرین کے مطابق انقرہ اجلاس کا سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ نیٹو اندرونی اختلافات، امریکی دباؤ اور یوکرین جنگ کے پس منظر میں کس حد تک اتحاد اور مشترکہ حکمتِ عملی کا مظاہرہ کر پاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اجلاس فوری زمینی تبدیلیوں سے زیادہ سیاسی پیغام رسانی اور اتحادیوں کو یقین دہانی کرانے کے لیے اہم ہے۔