بھارت کے سب سے بڑے مذہبی اجتماع کنبھ میلے میں شرکت کیلئے جانے والے ہندو یاتریوں کی کثیر تعداد کے باعث راستوں میں جگہ جگہ ٹریفک جام 300 کلومیٹر تک ٹریفک جام ہو گیا ، گاڑیاں دو روز سے پھنسی ہوئی ہیں ۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بسنت پنچمی کے امرت اشنان کے بعد توقع تھی کہ مہا کنبھ میں شریک لوگوں کی تعداد کم ہو گی مگر صورتحال اس کے برعکس ہو گئی ہے ، کیونکہ ملک بھر سے لوگ مقدس اشنان کے لیے پریاگ راج پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
پریاگ راج کو جانے والے راستوں پر ٹریفک کو سنبھالنے میں ناکامی کے بعد پولیس مدھیہ پردیش ہی میں یاتریوں کی گاڑیوں کو روک رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹریفک پولیس اہلکار کہتے ہیں ،لوگوں کا پریاگ راج کی طرف جانا ناممکن ہے کیونکہ 200 سے 300 کلومیٹر تک مکمل ٹریفک جام ہے۔
آئی جی ٹریفک پولیس سکیت پرکاش پانڈے کہتے ہیں ، ٹریفک جام کی بنیادی وجہ ویک اینڈ پر عوام کی زیادہ تعداد کا آنا ہے ۔ بڑی تعداد میں لوگوں نے گاڑیوں میں مہا کنبھ میلے کا رخ کیا ہے جس کے باعث سے ٹریفک جام ہوگیا۔ ان کا کہنا تھا ، ٹریفک کا نظام بحال ہونے میں مزید دو دن لگیں گے ۔
سڑکوں پر عوام اور گاڑیوں کے بے پناہ رش کے بعد پریاگ راج سنگم ریلوے اسٹیشن کو بھی بند کردیا گیا ۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے ، مسافروں کو اسٹیشن سے باہر نکلنے میں بھی شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس لیے اسٹیشن کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
دوسری جانب ٹریفک جام میں پھنسے ہندو یاتریوں کا کہنا ہے انتظامیہ کے ناقص انتظامات کے باعث ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔