خیبرپختونخوا حکومت نے د-ہشت گردی کے خلاف جنگ میں قیادت، وسائل اور اختیارات درست طور پر استعمال نہیں کیے: طلال چوہدری، وزیرِ مملکت

وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے خیبرپختونخوا کی تحریک انصاف حکومت پر د-ہشت گردی کے خلاف ناکافی اقدامات کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس جنگ میں صوبائی حکومت کی قیادت، وسائل کی فراہمی اور اختیارات کے استعمال میں خامیاں موجود ہیں۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ سیاسی حکومت انسدادِ د-ہشت گردی کے لیے قیادت، وسائل اور اختیارات فراہم کر سکتی ہے، مگر ان کے بقول صوبائی حکومت اس ذمہ داری کو مناسب طور پر پورا نہیں کر سکی۔

طلال چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف 2013 سے برسراقتدار ہے، لیکن ان کے مطابق پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کو مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کیے گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں بلٹ پروف جیکٹس، محفوظ گاڑیوں، تربیت، فرانزک لیبارٹریوں اور جدید نگرانی کے نظام کی کمی ہے، جبکہ انسدادِ د-ہشت گردی کا محکمہ بھی پورے صوبے میں مکمل طور پر فعال نہیں۔ اس سے قبل بھی وہ صوبائی پولیس کو جدید سازوسامان نہ دینے پر خیبرپختونخوا حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت سے سوال کیا کہ انسدادِ د-ہشت گردی کے لیے مختص رقوم کہاں خرچ کی گئیں اور پولیس کو ضروری سازوسامان کیوں فراہم نہیں کیا گیا۔ طلال چوہدری نے پنجاب کے محفوظ شہر منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جدید د-ہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے نگرانی کے نظام، فرانزک سہولیات، جدید گاڑیوں اور تربیت یافتہ فورس کی ضرورت ہوتی ہے۔

وزیرِ مملکت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے حالیہ بیانات پر بھی تنقید کی اور سوال اٹھایا کہ صوبائی حکومت افغانستان کا واضح نام کیوں نہیں لیتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کابل کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرنے کے لیے مذاکرات، دستاویزی ثبوت اور بین الاقوامی فورمز سمیت مختلف ذرائع استعمال کیے، تاہم ان کے بقول مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ د-ہشت گرد گروہوں کے ٹھکانے مغربی سرحد کے پار موجود ہیں اور انہیں مشرقی سمت سے مالی مدد حاصل ہوتی ہے۔

طلال چوہدری نے کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں حالیہ د-ہشت گرد حملوں کے بعد صوبائی حکومت کے طرزِ عمل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ اور صوبائی وزرا کو سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی جانوں کے ضیاع کے بعد زیادہ واضح اور فعال کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایک روز قبل کہا تھا کہ پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھانے والا ہر شخص د-ہشت گرد ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ خیبرپختونخوا کو جدید بکتر بند گاڑیاں اور دیگر سکیورٹی وسائل فراہم کیے جائیں اور انسدادِ د-ہشت گردی کی پالیسی بناتے وقت صوبے کے عوام اور حکومت کو اعتماد میں لیا جائے۔

خیبرپختونخوا میں حالیہ مہینوں کے دوران د-ہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے باعث وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان سکیورٹی پالیسی، وسائل کی تقسیم اور افغانستان سے متعلق حکمتِ عملی پر اختلافات مزید نمایاں ہوئے ہیں۔ وفاقی وزرا صوبائی حکومت کو ناکافی اقدامات کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے کو وفاق کی جانب سے مزید وسائل، سازوسامان اور پالیسی سازی میں مؤثر کردار درکار ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں