بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن اور بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء منگل کی صبح ڈھاکہ کے ایور کیئر اسپتال میں دورانِ علاج انتقال کر گئیں۔پارٹی بیان کے مطابق، ان کا انتقال فجر کے فورا بعد تقریبا 6 بجے ہوا۔
خالدہ ضیاء کئی دہائیوں تک بنگلہ دیش کی سیاست کی ایک نمایاں، طاقتور اور اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیت رہیں۔ وہ تین مرتبہ ملک کی وزیرِ اعظم منتخب ہوئیں اور مشکل اور ہنگامہ خیز سیاسی ادوار میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت کرتی رہیں۔
بی این پی حکام کے مطابق، ان کی نمازِ جنازہ اور تدفین سے متعلق تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے خالدہ ضیاء کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔اپنے تعزیتی پیغام میں پروفیسر محمد یونس نے کہا کہ قوم ایک عظیم سرپرست سے محروم ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق، بیگم خالدہ ضیاء محض ایک سیاسی جماعت کی قائد نہیں تھیں بلکہ وہ بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم اور ناقابلِ فراموش کردار تھیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حکومت نے ان کی عوامی خدمات اور مقبولیت کے اعتراف میں انہیں پہلے ہی ریاست کی نہایت اہم شخصیت (Very, Very Important Person of the State) کا درجہ دیا تھا۔
چیف ایڈوائزر نے کہا کہ کثیر الجماعتی جمہوریت کی بحالی، سیاسی حقوق کے تحفظ اور آمریت کے خلاف جدوجہد میں بیگم خالدہ ضیاء کا کردار ہمیشہ عزت و احترام سے یاد رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق، ان کی مضبوط قیادت نے کئی نازک مراحل پر قوم کو حوصلہ اور سمت فراہم کی۔
انہوں نے کہا کہ شدید سیاسی اختلافات کے باوجود خالدہ ضیاء کی طویل عوامی زندگی قومی مفاد اور عوام دوست طرزِ حکمرانی کی عکاس تھی۔ ان کی سیاسی جدوجہد پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر یونس نے بتایا کہ وہ بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم تھیں اور انہوں نے سیاست میں قدم اپنے شوہر، سابق صدر اور آرمی چیف ضیاءالرحمان کے 1981 میں قتل کے بعد رکھا۔
ان کے مطابق، خالدہ ضیاء کی قیادت نے 1980 کی دہائی کے اواخر میں جنرل ایچ ایم ارشاد کی طویل آمریت کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے خواتین کے لیے مواقع میں نمایاں اضافہ کیا، خصوصا بچیوں کے لیے مفت تعلیم اور وظائف کے اجراء کو خواتین کی تعلیم کے میدان میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جاتا ہے۔
چیف ایڈوائزر نے یہ بھی کہا کہ خالدہ ضیاء کبھی پارلیمانی انتخابات میں شکست سے دوچار نہیں ہوئیں اور 1991 سے 2008 تک متعدد حلقوں سے کامیابی حاصل کرتی رہیں۔ ان کے مطابق، اپنے پہلے دورِ حکومت میں انہوں نے معاشی اصلاحات اور آزاد معیشت کی بنیاد رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
بعد کے برسوں میں سیاسی محاذ آرائی کا حوالہ دیتے ہوئے پروفیسر یونس نے کہا کہ وہ مبینہ فاشسٹ طرزِ حکمرانی کے خلاف ایک مضبوط اپوزیشن کی علامت بن کر ابھریں۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کے مقدمات میں ان کی قید کو سیاسی انتقام قرار دیا جاتا ہے اور ان کے حامی آج بھی ان الزامات کو من گھڑت سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق، خالدہ ضیاء نے طویل عرصہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔
بیان کے آخر میں پروفیسر محمد یونس نے مرحومہ کے اہلِ خانہ، پارٹی رہنماؤں اور کارکنان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور قوم سے اپیل کی کہ اس ناقابلِ تلافی قومی نقصان کے موقع پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور بیگم خالدہ ضیاء کے لیے دعا کی جائے۔
ادھر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایکس پر اپنے تعزیتی پیغام میں لکھا کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئر پرسن اور بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاءکے انتقال پر دلی رنج و غم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی خدمت، ترقی اور خوشحالی کے لیے ان کی عمر بھر کی جدوجہد ہے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ خالدہ ضیا پاکستان کی مخلص دوست تھیں۔ اس غم کی گھڑی میں حکومت پاکستان اور پاکستان کے عوام بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس مشکل وقت میں ہماری دعائیں اور ہمدردیاں ان کے اہلِ خانہ، دوستوں اور بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور انہیں اپنی رحمت میں جگہ عطا کرے۔ آمین۔