بودھی ایک جاپانی شکاری کتا ہے مگر اب وہ دنیا کے معروف فیشن ماڈلز میں شامل ہے جو مہنگے برانڈز کے مردانہ(انسانی!)کپڑے پہن کر فوٹو شوٹ کرواتا ہے اور اس کے لیے بودھی کو ٹاپ فیشن ماڈلز کے برابر معاوضہ دیا جاتا ہے جو کم از کم بھی 15ہزار ڈالرز ماہانہ ہوتا ہے۔
بودھی جس ماڈلنگ ایجنسی کے پاس ہے، وہ یینا کِم اور ڈیوڈ فنگ نے قائم کی تھی۔ جب انھوں نے اس کتے سے مردانہ کپڑوں کی ماڈلنگ کرانا شروع کی تو فیشن انڈسٹری میں یہ منفرد اور دل چسپ آئیڈیا بہت پسند کیا گیا اور بڑے بڑے برانڈز بنانے اور بیچنے والی کمپنیاں فرمائش کر کے بودھی سے اپنی پروڈکٹس کی ماڈلنگ کروانے لگیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔اس سے اس کے مالکان کروڑ پتی ہوچکے ہیں۔
بودھی کو اب فیشن انڈسٹری میں’مینز ویئر ڈاگ‘کے نام سے جانا جاتا ہے۔وہ مہنگے اور نفیس کپڑوں کی قدر و قیمت اچھی طرح جانتا ہے، اس لیے جب اسے کپڑے پہنائے جاتے ہیں تو بے حد احتیاط کا مظاہرہ کرتا ہے۔اپنے پنجے موڑ کر ناخن چھپا لیتا ہے تا کہ کپڑوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے!۔کم اور فنگ نے سوشل میڈیا پرMenswear Dogکے نام سے بودھی کے اکائونٹس اور پیجز بھی بنائے ہیں۔انسٹاگرام پر بودھی کے لوکھوں فالورز ہیں۔فیس بک پر اسے لاکھوں لائیکس مل چکے ہیں۔ وہ بہت مصروف زندگی گذارتا ہے اور اپنی ’سیلی بریٹی لائف‘کو خود بھی بہت انجوائے کرتا ہے۔بودھی Coach, Victorinox Swiss Army, American Apparel, Hudson Shoes اورPurinaجیسی بڑی کمپنیوں کی پرودکٹس کے لیے ماڈلنگ کرتا ہے۔اس کے علاوہ GQ, Time, Esquire اورFast Companyجیسے مقبول جرائد اس کی تصویروں کو اپنے سرورق کی زینت بنانے کے لیے ہمیشہ بے چین رہتے ہیں۔
جن فیشن ایونٹس میں شرکت کے لیے ماڈلز اور فیشن کمپنیوںکے کرتادھرتا پلے سے خرچ کرتے ہیں،بودھی معاوضہ لے کے عوض ان میں شرکت کرتا ہے۔2015ء میں بودھی کا پہلا فیشن کیٹالاگ ’’Menswear Dog Presents the New Classics: Fresh Looks for the Modern Man‘‘مارکیٹ میں آیاتو اس کی دھوم مچ گئی۔اب بودھی کا مقابلہ کرنے کے لیے فیشن کی دنیا میں کئی جانور کود چکے ہیں مگر مقبولیت اور معاوضے کے حوالے اب بھی بودھی پہلے نمبر پر ہے۔